Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Ashk Amritsari's Photo'

اشک امرتسری

1904 - 1956 | کولکاتا, انڈیا

اشک امرتسری کا تعارف

تخلص : 'اشک امرتسری'

پیدائش :امرتسر, پنجاب

وفات : 12 Oct 1956 | کولکاتا, مغربی بنگال

LCCN :n2012218470

اشک کی پیدائش12 اکتوبر 1904 کو امرتسر میں ایک تجارت پیشہ خاندان میں ہوئی۔ اشک ترقی پسند شاعروں میں اپنے مخصوص شعری انداز وموضوعات کے سبب سب سے الگ ہیں۔ وہ صحیح معنوں میں عوامی شاعر تھے۔ انہوں نے نظیر اکبر آبادی کے انداز میں بالکل آسان اور عوامی زبان میں نظمیں کہیں۔ ان کے موضوعات بھی اسی نوعیت کے ہیں جو نظیر اکبر آبا دی کے یہاں ملتے ہیں۔ اسی لئے انہیں ’نظیر ثانی‘ بھی کہاجاتا تھا۔ ان کی شاہکار نظموں(پیسہ، بھاگو بھاگو ہلہ آیا، بچوں کی نموں نماں، حالات، ٹن ٹن ٹن، تب دیکھ بہار کلکتہ، کوک رے کوئل کوک، بنجارہ نامہ) کے عنوانات سے بھی ان کی شعری روش کا اندازہ ہوتا ہے۔ اشک امرتسری کا انتقال 20 ستمبر 1956 میں ہوا۔

موضوعات

Recitation

بولیے