آنسو سے ندی بنے ندی سمندر جائے

پربت کا رونا مگر کوئی دیکھ نہ پائے

کھیل سیاست کا بلی سے اب تو سیکھا جائے

چوہوں کے وہ پران لے پر ماسی کہلائے

یا بچے جنتی رہے یا ساس کی گالی کھائے

بیٹی جب بہو بنے اک پل چین نہ پائے

کیوٹ چپو ہاتھ لئے اچرج میں پڑ جائے

شاعر کاغذ کی نیا کیسے پار لگائے

جنت اور جہنم کا ریل کھیل دکھلائے

اک ڈبے میں آگ رہے دوجا برف جمائے