بشیر مہتاب کے شعر

1.9K
Favorite

باعتبار

یہ باتوں میں نرمی یہ تہذیب و آداب

سبھی کچھ ملا ہم کو اردو زباں سے

محبت بانٹنا سیکھو محبت ہے عطا رب کی

محبت بانٹنے والے طویل العمر ہوتے ہیں

مجھ کو اخبار سی لگتی ہیں تمہاری باتیں

ہر نئے روز نیا فتنہ بیاں کرتی ہیں

اس دور آخری کی جہالت تو دیکھیے

جس کی زباں دراز حکومت اسی کی ہے

اک بے وفا کے پیار میں حد سے گزر گئے

کافر کے پیار نے ہمیں کافر بنا دیا

میں حصار ظلمت شب میں ہوں جو بھٹک رہا ہوں گلی گلی

مجھے تیرگی سے گلا نہیں مجھے روشنی کی تلاش ہے

شاید ہمارے ہجر میں لفظوں کا ہاتھ تھا

اک لفظ غیر نے تو پرایا ہی کر دیا

خاک ڈالی ہے میں نے جذبوں پر

کوئی زخم اب ہرا نہیں ہوتا

یوں محبت کو عمر بھر پڑھنا

زندگی امتحان ہو جیسے

دیوالی کی خوشی تھی پٹاخوں کا شور تھا

میں کر رہا تھا اس کی خموشی سے گفتگو

ان سے وابستہ ہے مرا بچپن

میں کھلونوں کی قدر کرتا ہوں

مہتابؔ عمر بھر بھی نہ ہوگا رفو کبھی

وہ پل جو نفرتوں نے ادھیڑا تھا ایک دن

حسیں یادیں وہ بچپن کی کہیں دل سے نہ کھو جائیں

میں اپنے آشیانے میں کھلونے اب بھی رکھتا ہوں

زندگی فن نہیں مداری کا

پانیوں سے دئے نہیں جلتے

شہر والے نظر آتے ہیں مہذب مجھ کو

یہاں ہر شخص ہے اک درد کا دیوان لئے

مہتابؔ حقیقت سے آگاہ کرو ان کو

جو لوگ نہیں سمجھے اردو کا مقام اب تک

اس طرح منسلک ہوا اردو زبان سے

ملتا ہوں اب سبھی سے بڑی عاجزی کے ساتھ

اپنی کمر سے آپ ہی باندھے سفر تمام

پھر یوں ہوا کہ میں کبھی اپنا نہیں بنا

دیتا رہا وہ گالیاں اور میں رہا خموش

پھر یوں ہوا کہ وہ مرے قدموں میں گر گیا

آٹھواں رنگ کیا دیا اس نے

اب کے خود رنگ ہو گیا ہوں میں

آنکھ بھر کے میں نے اک بار اسے دیکھا تھا

شہر والے مری آنکھوں میں اسے دیکھتے ہیں

میں نے لگایا اپنے گناہوں کا جب حساب

مجھ کو پھر اپنے آپ سے نفرت سی ہو گئی

تم مرے پاس جب نہیں ہوتے

دھڑکنیں احتجاج کرتی ہیں

جسے منزل سمجھ کر رک گئے ہم

وہیں سے اپنا آغاز سفر تھا

مجھے معلوم ہے تم گر چکے ہو

اب اپنی ہار کو منظور کر لو