بلقیس خان کے اشعار
مری کلائی پہ باندھی گھڑی میں ٹھہرا ہے
وہ ایک پل جو زمانوں میں بھی سمایا نہیں
سمجھ رہی ہوں تو رستہ بدلنا چاہتا ہے
میں تیرے لہجے کی ساری جہات دیکھتی ہوں
اسی کی تال میں گم ہے صدی کا سناٹا
وہ ایک گیت ابھی تک جو گنگنایا نہیں
میرے پیروں کو ڈسنے والا سانپ
میری گردن میں کیوں حمائل ہے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ