Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
noImage

دیبا خانم

مقبول ناول نگار

مقبول ناول نگار

دیبا خانم کا تعارف

شناخت: ایک پراسرار قلمی نام (فرضی شناخت) جس کے پسِ پردہ متعدد مصنفین کارفرما رہے

دیبا خانم اردو ادب، خصوصاً عوامی اور رومانی فکشن کی دنیا کا ایک معروف مگر پراسرار نام ہے، جس کی اصل شناخت کے بارے میں ادبی حلقوں میں مختلف آرا پائی جاتی ہیں۔ عمومی طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ "دیبا خانم" کوئی ایک حقیقی شخصیت نہیں بلکہ ایک قلمی نام ہے، جس کے تحت ایک سے زائد مصنفین نے تحریریں پیش کیں۔

ادبی روایات اور بعض اہلِ قلم کے بیانات کے مطابق، اس نام کے پسِ پردہ معروف ناول نگار محی الدین نواب کا بھی کردار رہا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ جب وہ لاہور میں ایم اے زاہد کے ساتھ وابستہ تھے تو اس دوران انہوں نے "دیبا خانم" کے نام سے کئی ناول، بچوں کی کہانیاں اور دیگر تخلیقات تحریر کیں۔ بعض روایات کے مطابق یہ ادبی سرمایہ ایک مدت تک محفوظ رہا، مگر بعد میں ایک آتشزدگی کے واقعے میں ضائع ہو گیا۔

اس کے علاوہ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ "دیبا خانم" کے نام سے دیگر مصنفین نے بھی لکھا، جن میں ڈاکٹر بلیغ الدین جاوید اور ضیاء ساجد کے نام قابلِ ذکر ہیں۔ ضیاء ساجد نے "سمرن چودھری" کے نام سے بھی رومانی ناول تحریر کیے، جبکہ ڈاکٹر بلیغ الدین جاوید نے بعض اوقات دیگر معروف قلمی ناموں کے تحت بھی لکھا اور اس حوالے سے قانونی معاملات کا سامنا بھی کیا۔

بعض عینی شواہد اور ادبی حلقوں میں گردش کرنے والی روایات کے مطابق، محی الدین نواب نے ذاتی گفتگو میں اس بات کا اعتراف بھی کیا کہ وہ "دیبا خانم" کے نام سے لکھتے رہے ہیں، اور اس کی شناخت کا اندازہ ان کے مخصوص اسلوبِ تحریر سے لگایا جا سکتا ہے۔

مزید یہ کہ بعد کے زمانے میں جب ایک خاتون فنکارہ "دیبا خانم" کے نام سے سامنے آئیں، تو ان سے بھی اس حوالے سے سوال کیا گیا، جس پر انہوں نے بھی اسی نوعیت کی کہانی بیان کی جو پہلے سے ادبی حلقوں میں معروف تھی۔

 

موضوعات

Recitation

بولیے