دیپک اگروال کے اشعار
یہاں دروازے دستک دے رہے ہیں
ہوا نے کھیل الٹا کر دیا ہے
یوں کنارے سے محبت نہ کیا کر ہم سے
اس سے بہتر ہے محبت سے کنارا کر لے
رنگ بھرتے ہیں سادگی میں سب
میں نے رنگوں کو سادگی دی ہے
میدان میں اکیلا نہتھا کھڑا تھا میں
دشمن کو میری نیکیاں لشکر دکھائی دیں
اس طرح حسرت دیدار نکل کر آئی
ایک آہٹ پہ وہ سو بار نکل کر آئی
مرے ساتھ کوئی تو ہو جسے میں یہ کہہ سکوں
میں کسے کہوں مجھے چھوڑ دے مرے حال پر
دیکھ لے مجھ کو اندھیرے میں نظر آتا ہوں میں
چیخنے والے ترے اندر کا سناٹا ہوں میں