Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Farzana Naz's Photo'

فرزانہ ناز

فرزانہ ناز کے اشعار

ہیں اداسی کے اور بھی اسباب

مجھ کو تیرا ملال تھوڑی ہے

یہ تصور ہی جان لیوا ہے

وہ کسی اور کا ہے میرا نہیں

انا روکے ہوئے ہے ہم کو ورنہ

تمہیں واپس بلانا چاہتے ہیں

کوئی راہ دیتے نہیں دائرے بھی

ہے جھیلوں کا پانی ادھوری محبت

میں اس کی ہوں لیکن وہ میرا نہیں ہے

یہ پوری کہانی ادھوری محبت

شہر میں ہم سا بھی نہیں کوئی

اک وہی بے مثال تھوڑی ہے

مجھ پہ آسان ہو گیا تھا وہ

وہ بھی اردو میں بات کرتا تھا

اک معصوم پرندہ ہے دل

ان آنکھوں میں جال ہے صاحب

اک ہماری صدا تھی اس بن میں

لو جی خاموش ہو گئے ہم بھی

ہجرت مجھ سے لپٹ گئی ہے

پاؤں میں کتنے اور سفر ہیں

Recitation

بولیے