فضا اعظمی کا تعارف
ہم کو بھی ہو چلا تھا وفاؤں کا کچھ یقیں
لیکن وہ مسکرا دیے عہد وفا کے بعد
فضا اعظمی کا اصل نام عقیل احمد تھا اور انہوں نے "فضا" تخلص اختیار کیا۔ 21 جولائی 1930 کو متھرا (اتر پردیش) میں پیدا ہوئے، جبکہ ان کا آبائی وطن اعظم گڑھ تھا۔ تقسیمِ ہند کے بعد پاکستان منتقل ہوگئے۔ انہوں نے شبلی کالج، اعظم گڑھ سے بی اے، جبکہ ایم اے اور ایل ایل بی کی ڈگریاں الہ آباد یونیورسٹی سے حاصل کیں۔ فوٹوگرافی میں ڈپلومہ بھی الہ آباد یونیورسٹی ہی سے کیا۔
فضا اعظمی طویل عرصے تک انگریزی صحافت سے وابستہ رہے۔ بعد ازاں سفارتی خدمات انجام دیتے ہوئے پاکستان کے سفیر کی حیثیت سے مشرقِ وسطیٰ کے مختلف ممالک، جن میں قاہرہ، خرطوم اور جدہ شامل ہیں، نیز واشنگٹن میں بھی خدمات سرانجام دیں۔ اس کے بعد کراچی میں تجارت کے شعبے سے وابستہ ہوگئے۔
فضا اعظمی نے شاعری کے ساتھ ساتھ ادبی، سماجی اور تہذیبی موضوعات پر اردو اور انگریزی میں متعدد کتابیں تصنیف کیں۔ ’’جو دل پر گزری‘‘، ’’کرسی نامہ‘‘، ’’تری شباہت کے دائرے میں‘‘، ’’عذابِ ہمسائیگی‘‘، ’’مرثیۂ مرگِ ضمیر‘‘ اور ’’آوازِ شکستگی‘‘ ان کے شعری مجموعے ہیں۔ ’’ڈوبتے جہاز کے عرشے پر‘‘ کے عنوان سے انہوں نے اپنی خودنوشت بھی تحریر کی، جس میں دنیا کے مختلف ممالک میں اپنے قیام کے تجربات اور ہندوستان سے ہجرت کے واقعات کو تفصیل سے بیان کیا ہے۔
فضا اعظمی کا انتقال 88 برس کی عمر میں کراچی میں ہوا۔