noImage

حبیب حیدرآبادی

1924 | لندن, برطانیہ

غزل 2

 

اشعار 3

انسان کی بلندی و پستی کو دیکھ کر

انساں کہاں کھڑا ہے ہمیں سوچنا پڑا

آگے نکل گئے تھے ذرا اپنے آپ سے

ہم کو حبیبؔ خود کی طرف لوٹنا پڑا

حبیبؔ اس زندگی کے پیچ و خم سے ہم بھی نالاں ہیں

ہمیں جھوٹے نگینوں کی چمک بھاتی نہیں شاید

 

ای- کتاب 2

 

تصویری شاعری 1

ہم اہل_آرزو پہ عجب وقت آ پڑا ہر ہر قدم پہ کھیل نیا کھیلنا پڑا اپنا ہی شہر ہم کو بڑا اجنبی لگا اپنے ہی گھر کا ہم کو پتہ پوچھنا پڑا انسان کی بلندی و پستی کو دیکھ کر انساں کہاں کھڑا ہے ہمیں سوچنا پڑا مانا کہ ہے فرار مگر دل کو کیا کریں ماضی کی یاد ہی میں ہمیں ڈوبنا پڑا مجبوریاں حیات کی جب حد سے بڑھ گئیں ہر آرزو کو پاؤں_تلے روندنا پڑا آگے نکل گئے تھے ذرا اپنے_آپ سے ہم کو حبیبؔ خود کی طرف لوٹنا پڑا

 

"لندن" کے مزید شعرا

  • شبانہ یوسف شبانہ یوسف
  • یاور عباس یاور عباس
  • پروین مرزا پروین مرزا
  • سید جمیل مدنی سید جمیل مدنی
  • شاہین صدیقی شاہین صدیقی
  • جوہر زاہری جوہر زاہری
  • سید احسن جاوید سید احسن جاوید
  • اظہر لکھنوی اظہر لکھنوی
  • عابد نامی عابد نامی
  • منیر احمد منیر دہلوی منیر احمد منیر دہلوی