noImage

حبیب حیدرآبادی

1924 - 1989 | لندن, برطانیہ

غزل 2

 

اشعار 3

انسان کی بلندی و پستی کو دیکھ کر

انساں کہاں کھڑا ہے ہمیں سوچنا پڑا

آگے نکل گئے تھے ذرا اپنے آپ سے

ہم کو حبیبؔ خود کی طرف لوٹنا پڑا

حبیبؔ اس زندگی کے پیچ و خم سے ہم بھی نالاں ہیں

ہمیں جھوٹے نگینوں کی چمک بھاتی نہیں شاید

 

کتاب 1

برطانیہ کی سیاسی جماعتیں اور پارلیمنٹ

 

1988

 

تصویری شاعری 1

ہم اہل_آرزو پہ عجب وقت آ پڑا ہر ہر قدم پہ کھیل نیا کھیلنا پڑا اپنا ہی شہر ہم کو بڑا اجنبی لگا اپنے ہی گھر کا ہم کو پتہ پوچھنا پڑا انسان کی بلندی و پستی کو دیکھ کر انساں کہاں کھڑا ہے ہمیں سوچنا پڑا مانا کہ ہے فرار مگر دل کو کیا کریں ماضی کی یاد ہی میں ہمیں ڈوبنا پڑا مجبوریاں حیات کی جب حد سے بڑھ گئیں ہر آرزو کو پاؤں_تلے روندنا پڑا آگے نکل گئے تھے ذرا اپنے_آپ سے ہم کو حبیبؔ خود کی طرف لوٹنا پڑا

 

"لندن" کے مزید شعرا

  • ساقی فاروقی ساقی فاروقی
  • اکبر حیدرآبادی اکبر حیدرآبادی
  • ضیا الدین احمد شکیب ضیا الدین احمد شکیب
  • جوہر زاہری جوہر زاہری
  • عامر امیر عامر امیر
  • ہلال فرید ہلال فرید
  • یشب تمنا یشب تمنا
  • جامی ردولوی جامی ردولوی
  • فرخندہ رضوی فرخندہ رضوی
  • عبدالحفیظ ساحل قادری عبدالحفیظ ساحل قادری