حلیم قریشی کا تعارف
حلیم قریشی کا اصل نام عبدالحلیم قریشی تھا۔ 1940ء میں واہ، پاکستان میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم واہ کی سیمنٹ فیکٹری کالونی کے اسکول سے حاصل کی، بعد ازاں حسن ابدال گورنمنٹ ہائی اسکول، سیٹلائٹ ٹاؤن کالج راول پنڈی، ڈگری کالج اصغر مال راول پنڈی اور پشاور یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی اور ایم اے انگریزی کی ڈگری حاصل کی۔ ملازمت کا آغاز ایسوسی ایٹڈ سیمنٹ فیکٹری، واہ میں اسسٹنٹ مینیجر کی حیثیت سے کیا اور بعد میں آرمی ویلفیئر ٹرسٹ سے جنرل منیجر پراجیکٹس کے عہدے سے ریٹائر ہوئے۔
حلیم قریشی کی شاعری کی طرف رغبت زمانۂ طالب علمی ہی میں پیدا ہوئی۔ انہوں نے کم عمری میں کلاسیکی اور جدید شاعری کا مطالعہ کیا اور نقشِ فریادی، ساحر لدھیانوی کی تلخیاں اور عدم کی خرابات جیسی کتابیں زبانی یاد کیں، جس سے انہیں مصرع موزوں کرنے کا سلیقہ حاصل ہوا۔ واہ سیمنٹ فیکٹری کی ادبی سرگرمیوں اور مشاعروں نے بھی ان کے شعری ذوق کو جلا بخشی۔ انہوں نے جگر مراد آبادی، جوش ملیح آبادی اور فیض احمد فیض جیسے شعرا کو بالمشافہ سنا۔ بعد میں فیکٹری کے کلب میں بزمِ ادب کے قیام میں اہم کردار ادا کیا اور متعدد مشاعروں کی نظامت بھی کی، جن میں احمد ندیم قاسمی، حبیب جالب، احمد فراز، ضمیر جعفری اور منیر نیازی جیسے شعرا نے شرکت کی۔
حلیم قریشی غزل اور نظم دونوں اصناف میں اظہارِ خیال کرتے تھے۔ ان کے نزدیک شاعری ایک سنجیدہ تخلیقی عمل ہے اور وہ معیار کو کثرتِ کلام پر ترجیح دیتے تھے۔ ان کا شعری مجموعہ ’’جاں سِتاں‘‘ بھی اسی شعری سفر کی یادگار ہے۔ وہ کلاسیکی شاعری کے گہرے مطالعے کو نئے لکھنے والوں کے لیے ضروری قرار دیتے تھے اور غالب، اقبال، فیض، اخترالایمان، مجید امجد، احمد فراز اور احمد ندیم قاسمی کو اہم شعرا میں شمار کرتے تھے۔
حلیم قریشی شاعری کے ساتھ اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں بھی نمایاں کارناموں کے لیے معروف تھے۔ انہوں نے پاکستان میں پہلی مرتبہ ہائی ایلومینیا سیمنٹ متعارف کرانے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کی شخصیت میں ادبی ذوق، پیشہ ورانہ دیانت اور قومی وابستگی نمایاں تھی۔ ان کے نزدیک اچھا ادب وہ ہے جو معاشرے کے عدم توازن کی نشان دہی کرے اور انسانی زندگی کو زیادہ بامعنی اور زرخیز بنانے میں کردار ادا کرے۔