حسن امام کے افسانے
تازہ ہوا کے شور میں!
شام کا اندھیرا بیٹھتے ہوئے غبار کی طرح آہستہ آہستہ آنگن میں اتر آیا تھا۔ نیم کے پیڑ پر چڑیاں دیر ہوئی شور مچا کر خاموش ہو چکی تھیں۔ لیکن نیچے کنویں پر سہ پہر کے رکھے ہوئے برتن اب تک پڑے تھے جنہیں کوؤں نے کچھ دانے کی تلاش میں کھینچ کھینچ کر ادھر ادھر
روزن
‘’ابے سالے کیا کرتا ہے‘‘ جسیم چپراسی کی پاور ہارن جیسی آواز چودہ سالہ معید کے کانوں میں پگھلے ہوئے سیسے کی طرح اُتر گئی۔ اس کے کان تپ کر سرخ ہو گئے۔ پھر یہ سرخی چہرے پر پھیل گئی اور ایک سنسنا ہٹ سی گردن سے گزرتی ہوئی سینے میں اُترنے لگی۔ غصے سے اس
آرزوؤں کا ایک ویرانہ
جنوری کی ٹھٹھرتی ہوئی سنسان رات نفیسہ کے گیسوؤں کی طرح آدھی ادھر اور آدھی ادھر تھی۔ فرق صرف یہ تھا کہ اس کے گیسو اندھیری رات کی طرح سیاہ تھے اور آج کی رات دودھیا چاندنی میں سفید گلاب کی طرح کھلی ہوئی تھی۔ وہ کھڑکی کے قریب اپنی پلنگ پر بے حس و حرکت پڑی