اجلال مجید کا تعارف
پیدائش : 23 Aug 1940 | شاہ جہاں پور, اتر پردیش
معاصر اردو غزل کے باوقار اور سنجیدہ منظرنامے پر اجلال مجید ایک ایسا منفرد نام ہیں جن کے ہاں خاموشی، گہرے وجودی شعور اور باطنی کرب کا بے حد نایاب اور پُرتاثیر آہنگ ملتا ہے۔ 23 اگست 1940ء کو شاہجہاں پور (اتر پردیش) میں آنکھ کھولنے والے اجلال مجید نے اپنی ابتدائی و اعلیٰ تعلیم شاہجہاں پور اور لکھنؤ کے ادبی و تہذیبی ماحول سے حاصل کی۔ تعلیم کی تکمیل کے بعد وہ بھوپال آ بسے اور 1963ء سے تاریخی سیفیہ کالج کے شعبۂ تاریخ میں تدریسی خدمات انجام دیتے ہوئے 1998ء میں بحیثیت صدرِ شعبہ تاریخ کے معزز منصب سے سبکدوش ہوئے۔ ایک مورخ کی معروضی نظر اور ایک شاعر کی حساس باطنی بصیرت کے اس سنگم نے ان کے فکر و فن کو ایک نکھری ہوئی وسعت عطا کی ہے۔
1970ء کی دہائی سے باقاعدہ شعری اشاعت کا آغاز کرنے والے اجلال مجید نے روایتی نعرے بازی اور مشاعروں کی سستی شہرت سے الگ رہ کر ہمیشہ سنجیدہ اور معنی خیز شاعری کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا۔ ان کا پہلا مجموعۂ کلام ’’خود گرفتہ‘‘ کے نام سے منصۂ شہود پر آیا جس نے ادبی دنیا اور صاحبانِ نقد و نظر میں ان کے چونکا دینے والے اسلوب کا لوہا منوایا، جب کہ ان کی شاعری کا ایک اور مجموعہ ’’لمحۂ موجود‘‘ بھی شائع ہو چکا ہے۔ ان کی شاعری کی سب سے بڑی خوبی لمحۂ موجود کی گرفت، خود کلامی اور سچے انسانی رویوں کی ایسی عکاسی ہے جس میں زبان کی سادگی کے پسِ پردہ گہرا فلسفیانہ ملال چھپا ہوتا ہے؛ جیسا کہ وہ خود کہتے ہیں
نہ کل کی یاد نہ کل کی امید باقی ہے
ابھی ابھی کہ ابھی بس ابھی کا سامنا ہے
شاعری کے ساتھ ساتھ اجلال مجید صاحب نے اردو اور ہندی کے مابین لسانی اور ادبی رابطے کا ایک تاریخی پل بھی تعمیر کیا۔ انہوں نے ہندی کے معتبر ادبی جریدے ’وسودھا‘ کے لیے ’’کہ آتی ہے اردو زباں آتے آتے‘‘ کے عنوان سے ہم عصر اردو ادب کی اہم نثری و شعری تخلیقات پر مشتمل دو ضخیم اور تاریخی حصوں کی ادارت کی، جسے ادبی حلقوں میں غیر معمولی پذیرائی ملی۔ اجلال مجید صاحب دراصل اردو کے ان گنے چنے قلمکاروں میں سے ہیں جن کے ہاں الفاظ کی نمود و نمائش کے بجائے باطن کی خاموش گونج اور فکر کی صداقت بولتی ہے، اور یہی وصف انہیں اپنے ہم عصروں میں ایک بلند اور ممتاز مقام عطا کرتا ہے۔ ان کی شعری و ادبی خدمات کے اعتراف میں مدھیہ پردیش اردو اکادمی کی جانب سے انہیں 'شاداں اندوری ایوارڈ' سے نوازا جا چکا ہے۔