Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
noImage

امام ابن تیمیہ

1263 - 1328 | دمشق, سوریہ

13ویں صدی کے مشہور عالم دین، فقیہ، محدث، الٰہیات دان

13ویں صدی کے مشہور عالم دین، فقیہ، محدث، الٰہیات دان

امام ابن تیمیہ کا تعارف

تخلص : 'ابن تیمیہ'

اصلی نام : احمد

پیدائش : 22 Jan 1263

وفات : 26 Sep 1328 | دمشق, دوسرا

شناخت: شیخ الاسلام، جلیل القدر فقیہ، محدث، متکلم اور حنبلی مکتبِ فکر کے ممتاز شارح اور اسلام کے مایہ ناز الٰہیات دان (Theologian)

شیخ الاسلام تقی الدین احمد بن عبد الحلیم، جنہیں دنیا ابن تیمیہ کے نام سے جانتی ہے، 22 جنوری 1263ء (661ھ) کو حران (موجودہ ترکی) میں پیدا ہوئے۔ تاتاریوں کے بڑھتے ہوئے حملوں کے باعث آپ کا خاندان دمشق (شام) منتقل ہو گیا۔ آپ نے ایک ایسے علمی گھرانے میں آنکھ کھولی جہاں علم کی قندیلیں روشن تھیں۔ محض 20 برس کی عمر میں آپ نے اپنے والد کی جگہ درس و تدریس کا آغاز کیا اور بسم اللہ کی تفسیر میں اتنے نکات بیان کیے کہ اس وقت کے بڑے بڑے علما دنگ رہ گئے۔

امام ابن تیمیہ کا سب سے بڑا کارنامہ مسلمانوں کے عقائد کی تطہیر تھی۔ اس دور میں یونانی فلسفہ اور منطق کے اثرات نے اسلامی تعلیمات کو پیچیدہ بنا دیا تھا۔ آپ نے یونانی فلسفہ کا علمی محاسبہ کیا اور ثابت کیا کہ قرآن و حدیث کی سادہ تعلیمات ہی نجات کا راستہ ہیں۔

مزارات پر منتیں ماننے، شرکیہ رسوم اور غیر شرعی وسیلے کے خلاف آواز بلند کی اور بدعات کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے عملی اقدامات کیے۔ ابن عربی کے افکار اور وحدت الوجود کے نظریات کو قرآن و سنت کے خلاف قرار دیا۔

امام ابن تیمیہ صرف قلم کے دھنی نہیں تھے بلکہ میدانِ جنگ کے شہسوار بھی تھے۔ جب تاتاریوں نے شام پر حملہ کیا، تو آپ نے عوام اور حکمرانوں کو جنگ پر ابھارا۔ تاتاری بادشاہ غازان خان سے آپ کی ملاقات تاریخ کا ایک درخشاں باب ہے، جہاں آپ نے اس کے سامنے انتہائی بے باکی سے عدل و انصاف کی تلقین کی۔

آپ کی پوری زندگی حق گوئی کی پاداش میں آزمائشوں سے عبارت رہی۔ آپ کی آزادانہ فقہی آراء (مثلاً طلاق اور زیارتِ قبور کے مسائل) کی وجہ سے معاصر علما اور حکومت وقت نے آپ کو بارہا قید کیا۔ آپ نے اپنی زندگی کے آخری ایام بھی دمشق کے قلعے میں بحالتِ قید گزارے۔

آپ نے تقریباً 700 سے زائد کتب تصنیف کیں، جن میں 'منہاج السنہ'، 'الصارم المسلول' اور 'عقیدہ واسطیہ' نمایاں ہیں۔ آپ کے شاگردوں میں امام ابن قیم اور حافظ ابن کثیر جیسے نابغہ روزگار علما شامل ہیں جنہوں نے آپ کے مشن کو آگے بڑھایا۔

وفات: 26 ستمبر 1328ء (20 ذو القعدہ 728ھ) کو دمشق کے قلعہ میں حالتِ اسیری میں انتقال ہوا۔

موضوعات

Recitation

بولیے