اقبال انصاری کے افسانے
ایک تھی دردانہ
رواج کے مطابق دردانہ نے ایک ایک کے گلے لگ کر رونا شروع کیا۔ دولہا بھائی سے لپٹ کر تو کچھ اس طرح روئی کہ دیکھنے والوں میں سے کچھ کے آنسو نکل پڑے اور کچھ کی آنکھیں۔ کچھ دولہا بھائی کی قسمت پر بے اختیارانہ رشک کرنے لگے۔ بھائی نے کچھ دیر تو انتظار کیا، پھر
ایک شریف آدمی
’’میں تو آپ کو بڑا شریف آدمی سمجھتی تھی پروفیسر صاحب!‘‘ نوشابہ نے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے کہا۔ اس کے بھرے بھرے متناسب جسم پر آسمانی رنگ کا شلوار سوٹ تھا جس نے اس کی شخصیت کو مزید جاذب نظر کر دیا تھا۔ سیاہ بال بڑے سلیقے سے شانوں پر ڈھلکے ہوئے تھے۔ تمتمایا
گلاب کی جڑ
’’اس کی کیا ضمانت ہے کہ جو کچھ آپ کہہ رہے ہیں وہ سب صحیح ہے؟‘‘ جنید صاحب نے سنہری کمانی کی عینک کا زاویہ اپنی چمکتی ہوئی دبنگ سی نظر آنے والی خاصی صحت مند ناک پر درست کرتے ہوئے کہا۔ ان کے پکے جامنی رنگت چہرے پر سوالیہ سنجیدگی بڑی واضح تھی۔ ‘’سوال
کمبل
کنو بابا بینک آف انڈیا کے چھجے کے نیچے دو فٹ اونچے چبوترے پر بائیں کنارے اسی جگہ بیٹھا تھا جوا س نے ایک عرصے سے اپنے لیے مخصوص کر رکھی تھی۔ چھجا عمارت کی چھت کا ایک حصہ تھا جو سامنے کی دیوار سے تقریباً پانچ فٹ آگے کو نکلا ہوا تھا اور بینک میں داخل ہونے
وشال ارجانی کی محبوبہ
سبز رنگ کے بغیر آستینوں اور گہرے گلے (Low-Cut) بلاؤز اور کریم کلر کے نصف پنڈیوں تک اونچے اسکرٹ میں سنہرے سے باریک گھونگھرالے بالوں والی وہ بے تحاشا خوبصورت لڑکی بےحد طیش میں اپنے کیبن سے نکلی اور ماربل کے دودھ جیسے سفید فرش پر ہائی ہیل کی جارحانہ کھٹ