جاوید رحمانی کا تعارف
جاوید رحمانی (تخلص: جاوید) یکم مارچ 1980 کو بابو سلیم پور، ضلع دربھنگہ (بہار) میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ایک معروف علمی خانوادے سے ہے۔ ابتدائی تعلیم اور بی اے دربھنگہ سے مکمل کیا، جبکہ ایم اے اور ایم فل جواہر لال نہرو یونیورسٹی، نئی دہلی سے کیا۔ ایم اے میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے پر انہیں جواہر لال نہرو یونیورسٹی کا پہلا سجاد ظہیر میرٹ ایوارڈ عطا کیا گیا۔ بعد ازاں دہلی یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی۔
تعلیم مکمل کرنے کے بعد کچھ عرصہ انجمن ترقی اردو (ہند) اور قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، نئی دہلی سے وابستہ رہے۔ 2017 سے شعبۂ اردو، آسام یونیورسٹی، سلچر میں تدریسی خدمات انجام دے رہے ہیں، جہاں وہ شعبے کے بانی فیکلٹی اراکین میں شامل ہیں اور صدرِ شعبہ کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔
جاوید رحمانی زمانۂ طالب علمی ہی سے شعر کہتے آرہے ہیں۔ ان کی غزلوں میں تہذیبی شعور، عصری حسیت اور فکری سنجیدگی نمایاں ہے، جبکہ ان کے تنقیدی مضامین بھی اردو کے معتبر ادبی جرائد میں شائع ہوتے رہے ہیں۔ ان کا یہ شعر خاص طور پر بہت مقبول ہوا:
اپنے اجداد کی میراث لیے پھرتا ہوں
ایسی بے مایہ سی دولت کہ لٹا بھی نہ سکوں
یہ شعر پہلی بار 2001 میں جواہر لال نہرو یونیورسٹی کی ایک شعری نشست میں پیش کیا گیا تھا اور بعد ازاں اردو اور ہند ایرانی تہذیبی مباحث کے حوالے سے کثرت سے نقل کیا گیا۔
تنقید کے میدان میں بھی ان کی خدمات نمایاں ہیں۔ ان کی پہلی کتاب "غالب تنقید" 2006 میں انجمن ترقی اردو (ہند) سے شائع ہوئی، جس کی غیر معمولی پذیرائی کے باعث 2007 میں اس کا دوسرا ایڈیشن شائع کرنا پڑا۔ اس کتاب میں محمد حسین آزاد سے شمس الرحمٰن فاروقی تک غالب پر لکھی جانے والی اہم تنقیدی تحریروں کا جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ اس کا ہندی ترجمہ بھی تیار کیا جا چکا ہے۔ ان کی دیگر اہم تصانیف میں "رشید حسن خاں: کچھ یادیں، کچھ جائزے" اور "ستارۂ ہند راجہ شیو پرساد" (اردو ترجمہ، ساہتیہ اکادمی) شامل ہیں۔
انہوں نے انجمن ترقی اردو (ہند) کے ہفت روزہ "ہماری زبان" کا حنیف نقوی نمبر بطور مہمان مدیر مرتب کیا، جو 2015 میں شائع ہوا۔ اس خصوصی شمارے میں حنیف نقوی کی تحریروں کا جامع اشاریہ (مرتبہ شمس بدایونی) بھی شامل کیا گیا۔ اردو اداروں میں انتظامی اصلاحات کے حوالے سے بھی وہ مسلسل لکھتے اور اظہارِ خیال کرتے رہے۔ جاوید رحمانی بیک وقت شاعر، نقاد، محقق اور استاد کی حیثیت سے معاصر اردو ادب میں ایک معتبر شناخت رکھتے ہیں۔