Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Khaliq Abdullah's Photo'

خالق عبداللہ

1947 - 2009 | ہاوڑہ, انڈیا

بنگال سے تعلق رکھنے والے معروف اردو شاعر اور ادیب

بنگال سے تعلق رکھنے والے معروف اردو شاعر اور ادیب

خالق عبداللہ کا تعارف

تخلص : 'خالق'

اصلی نام : عبدالخالق

پیدائش : 01 Feb 1947 | ہاوڑہ, مغربی بنگال

وفات : 05 Nov 2009 | ہاوڑہ, مغربی بنگال

خالق عبداللہ کا اصل نام عبدالخالق ہے لیکن ادبی اور سماجی حلقوں میں وہ خالق عبداللہ کے نام سے معروف تھے۔ تخلص خالق تھا۔ ان کے والد کا نام حافظ عبداللہ ہے۔ خالق عبداللہ کی ولادت 01 فروری 1947ء کو شیب پور، ہوڑہ میں ہوئی تھی۔ ان کا آبائی وطن بڑا راج پور، ضلع آرہ، بہار ہے۔ تعلیم بی اے تک تھی اور پیشہ درس تدریس تھا۔ انھوں نے شاعری اور نثر نگاری کا آغاز 1965ء سے کیا۔ شرفِ تلمذ قیصر شمیم سے تھا۔ ان کے شعری مجموعے کا نام ”بجھتی ہوئی شمع کا دھواں“ ہے جو 2008ء میں منظر عام پر آیا تھا۔

خالق عبداللہ کی شاعری پر ڈاکٹر محمد شمشیر عالم اس طرح اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہیں۔
”مغربی بنگال کے ادبی منظر نامے پر ابھرنے والے کچھ نام ایسے ہیں جو آج بھی اپنے فکر وفن کے اجالوں سے ہمارے ذہنوں میں روشن ومنور ہیں۔ خالق عبداللہ انہیں میں سے ایک ہیں۔ یہ وہی خالق عبد اللہ ہیں جنہوں نے اپنے خوب صورت کلام اور منفرد لب ولہجے کی بدولت ایک زمانے کو متاثر کیا اور لوگوں کے دلوں میں اپنے لئے ایک مخصوص جگہ بنائی۔
خالق عبداللہ کی شاعری کے مختلف ابعاد Dimensions ہیں، کہیں انسانی دردمندی کے چراغ جلتے ہیں، کہیں زمانے کی بےثباتی انہیں متاثر کرتی ہے تو کہیں اپنوں کی بےرخی، تہذیبی قدروں کی پامالی اورمظلوموں کا نوحہ ان کی شاعری کا عنوان بن جاتے ہیں ۔ اورکمال یہ ہے کہ خالق عبداللہ نے ہر ایک موضوع کو بڑے سلیقے سے اپنی شاعری میں برتا بھی ہےجو ان کی فنکارانہ خلاقی کا جیتا جاگتا ثبوت ہے۔
”بجھتی ہوئی شمع کا دھواں“ میں بہت سارے اشعار ایسے ہیں جو بلاشبہ خالق عبداللہ کی شاعرانہ انفرادیت کے گواہ ہیں۔
اس ضمن میں یہ بات پورے وثوق کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ ان کا خوش رنگ کلام یا ان کے اثر آفریں اشعار بالکل میٹھے پانی کے ان چشموں کی طرح ہیں جو ہمیں ایک انوکھی مسرت اور ایک فرحت بخش ذائقے سےآشنا کراتے ہیں اور یہ باور کراتے ہیں کہ ہمیں خالق عبداللہ جیسے خوش فکر شاعر کا کلام ایک بار ضرور پڑھنا چاہیے۔“

خالق عبداللہ کا انتقال 05 نومبر 2009ء کو شیب پور، ہوڑہ، مغربی بنگال میں ہوا۔

موضوعات

Recitation

بولیے