Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
noImage

محمود عشقی

محمود عشقی کے اشعار

منہ چھپائے جواب پھرتے ہیں

سر اٹھا کر کھڑے ہوئے ہیں سوال

دور سے تکتے رہے ننگے بدن

ہو گئے شو کیس میں میلے لباس

خوشبو کی طرح شب کو مچلتا تھا گلبدن

بستر سے چن رہا ہوں میں ٹوٹے ہوئے بٹن

فکروں کو چیرتے ہوئے تیرے خیال نے

ٹوٹے ہوئے بدن میں نیا دل لگا دیا

ہم تو مٹی کی طرح سب سے ملے اٹھ اٹھ کر

ہم سے ملتے ہیں مگر لوگ خداؤں کی طرح

Recitation

بولیے