Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Majid-ul-Baqri's Photo'

ماجد الباقری

1928 - 1995

ماجد الباقری

غزل 13

نظم 1

 

اشعار 10

بات کرنا ہے کرو سامنے اتراؤ نہیں

جو نہیں جانتے اس بات کو سمجھاؤ نہیں

لوہے اور پتھر کی ساری تصویریں مٹ جائیں گی

کاغذ کے پردے پر ہم نے سب کے روپ جمائے ہیں

ماجدؔ نے بیراگ لیا ہے کوئی ایسی بات نہیں

ادھر ادھر کی باتیں کر کے لوگوں کو سمجھایا کر

مجھی سے پوچھ رہا تھا مرا پتا کوئی

بتوں کے شہر میں موجود تھا خدا کوئی

ہونٹ کی سرخی جھانک اٹھتی ہے شیشے کے پیمانوں سے

مٹی کے برتن میں پانی پی کر پیاس بجھایا کر

کتاب 2

 

Recitation

Jashn-e-Rekhta | 8-9-10 December 2023 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate - New Delhi

GET YOUR PASS
بولیے