Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

منظر سہیل کے اشعار

135
Favorite

باعتبار

لڑکا نہ کوئی پھر سے ہو برباد دہر میں

تجھ پر نہ جائیں بیٹیاں تیری خدا کرے

مری نگاہ کو گر تیری دید ہو جائے

قسم خدا کی مری عید عید ہو جائے

ضروری تو نہیں یہ کہ ہلیں لب

یہ خاموشی بھی تو اک گفتگو ہے

بے وفائی کی جب بھی بات چلی

با خدا تم بہت ہی یاد آئے

اک بار میں ہی تو مرا قصہ تمام کر

قسطوں میں کر رہا ہے بھلا قتل کیوں مجھے

مثل موسم جو بدلتے تو کوئی بات نہ تھی

تو نے تو بدلا ہے گرگٹ کی طرح رنگ اپنا

کیوں میں اس حسن کو حسین کہوں

جس کی زینت ہی بے حیائی ہو

بڑا ہی فرق ہے اے یار ہم دونوں کے جذبوں میں

تمہیں مجھ سے محبت تھی مجھے تم سے محبت ہے

ہونے دو اگر ہو گئے کچھ لوگ برے بھی

گلشن میں اگر پھول ہیں تو خار بھی ہوں گے

رنج و غم اور الم و درد کا لشکر نکلے

عشق تو تب ہے جب آنکھوں سے سمندر نکلے

کچھ تو انصاف کر بنی آدم ہر نفی شے کو تو حقیر نہ جان

تیرگی روشنی سے پہلے تھی خار پھولوں سے پہلے آئے ہیں

اک ہی لمحے میں سمجھ آتی نہیں کوئی کتاب

عمر لگتی ہے کسی شخص کو پہچاننے میں

کیوں حیا خود پہ رو رہی ہے سہیلؔ

کیا کسی بے حیا کو دیکھا ہے

گر گئی ہے وہ اک بلندی سے

میں نے سر پہ چڑھا لیا تھا اسے

کہ جس چراغ کو روشن کیا تھا میں نے کبھی

وہی چراغ مرا گھر جلانے آیا ہے

اک عمر ہو گئی ہے اسے چاہتے ہوئے

اک عمر سے یہ بار گراں ڈھو رہے ہیں ہم

ایسی نیندوں سے تھک چکا ہوں میں

مجھ کو نیند ہمیشگی دے دے

جب وہ ہیں برے تو پھر اچھائی کریں گے کیوں

خوشبو کی تمنا تم کیوں کرتے ہو خاروں سے

نظر ہیں آئی بڑے عرصے باد آج مجھے

وہ آیتیں کہ جو منسوخ ہو گئی تھیں کبھی

راہوں کے پتھروں کا بھلا کیا گلہ کروں

اب آدمی کے دل بھی تو پتھر کے ہو گئے

عشق پہ اجتہاد کر کر کے

مجتہد ہو گیا ہوں میں غم کا

محبت کی بھی تو اک بے وفا سے

یہ قتل خود نہیں تو اور کیا ہے

ہے اسی بات کا ملال مجھے

کہ مجھے اب کوئی ملال نہیں

آدم کے لاڈلے بھی کچھ کم نہیں ہیں لیکن

حوا کی بیٹیوں سے اللہ ہی بچائے

اب جا کے کس سے مانگوں بھلا روشنی کی بھیک

اب تو چراغ دہر بھی ہے تیرگی پسند

Recitation

بولیے