Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Maulvi Aslam Waraich's Photo'

مولوی اسلم وڑائچ

1940 - 2019 | سرگودھا, پاکستان

دیہی معاشرے اور محنت کش طبقے کے احساسات کو اپنے مؤثر شعری لہجے میں آواز دینے والے معروف شاعر، اردو اور پنجابی دونوں زبانوں میں شاعری کی

دیہی معاشرے اور محنت کش طبقے کے احساسات کو اپنے مؤثر شعری لہجے میں آواز دینے والے معروف شاعر، اردو اور پنجابی دونوں زبانوں میں شاعری کی

مولوی اسلم وڑائچ کا تعارف

تخلص : 'اسلم'

پیدائش :سرگودھا, پنجاب

وفات : 21 May 2019 | سرگودھا, پنجاب

بیسویں صدی کے نامور شعرا میں مولوی اسلم وڑائچؔ کا نامِ نامی کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ ان کا شمار ان سخن وروں میں ہوتا ہے جنہوں نے دیہی معاشرے، محنت کش طبقے اور عام انسان کے دلی جذبات و احساسات کو نہایت مؤثر اور دلنشین انداز میں اپنے کلام کا حصہ بنایا۔ ان کا اصل نام محمد اسلم وڑائچ تھا۔ انہوں نے ضلع سرگودھا، پنجاب کے ایک گاؤں چک 95 جنوبی میں جنم لیا اور تا دمِ آخر اپنی دھرتی، اپنے ماحول اور اپنے لوگوں سے جڑے رہے۔ سادگی، خودداری اور نرم خوئی ان کی شخصیت کا خاصہ تھی، جبکہ ان کے طرزِ فکر میں سماجی شعور اور انسانی ہمدردی کو بنیادی اہمیت حاصل تھی۔
مولوی اسلم وڑائچؔ اردو اور پنجابی دونوں زبانوں پر یکساں دسترس رکھتے تھے اور دونوں میں شعر کہتے تھے۔ ان کا شعری اسلوب فکری گہرائی اور عوامی احساسات کا ایک حسین امتزاج تھا۔ مشاعروں میں ان کی شرکت سامعین کے لیے باعثِ کشش ہوتی تھی اور وہ اکثر اپنا کلام زبانی سناتے تھے۔
ان کا واحد شعری مجموعہ ’’آئیے شام ہونے والی ہے‘‘ کے عنوان سے شائع ہوا، جسے قارئین نے خاص توجہ سے پڑھا۔ بالآخر، 21 مئی 2019ء کو سرگودھا میں ان کا انتقال ہوا۔ 

موضوعات

Recitation

بولیے