Mirza Hadi Ruswa's Photo'

مرزا ہادی رسوا

1858 - 1931 | لکھنؤ, ہندوستان

مرزا ہادی رسوا کا تعارف

اصلی نام : محمّد ہادی

وفات : 21 Oct 1931

LCCN :n88602772

نام مرزا محمد ہادی تھا، رسواؔ تخلص کرتے تھے۔ 1858ء میں لکھنؤ میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ماژندان سے تھا۔ عہد مغلیہ میں ان کے جد امجد ہندوستان آئے اور ان کے پردادا نے اودھ میں سکونت اختیار کی۔ مرزا نے فارسی، عربی اور دوسرے علوم میں دسترس حاصل کی۔ ابتدا میں ان کے والد نے خود تعلیم دی۔ خصوصاً ریاضی کا سبق انہیں سے لیا لیکن جب رسوا سولہ برس کے تھے تو ان کے والد کا انتقال ہوگیا۔ خاندانی جائیداد سے گزر بسر ہونے لگی۔ حصول تعلیم کا ذوق و شوق کافی تیز تھا۔ لہٰذا مطالعے میں مصروف تھے۔ 1836ء میں صحافت سے وابستہ ہوئے لیکن جلد ہی دوسری ملازمت بھی شروع کی۔ لیکن کسی کام میں ان کا جی کبھی نہ لگا۔ ایک زمانے میں کیمیاگری کی طرف متوجہ ہوئے تو پھر اسی کے ہوکر رہ گئے، لیکن کچھ فائدہ نہیں ہوا۔ بعد میں لکھنؤ کے ایک اسکول میں مدرس ہوگئے۔ اسی زمانے میں پرائیویٹ طور پر کچھ امتحانات بھی پاس کئے۔ 1888 میں ریڈکرسچن کالج میں پڑھانے لگے۔ لیکن 1901ء میں حیدرآباد چلے گئے اور وہیں ملازمت اختیار کی۔ لیکن ان کی صحت وہاں اچھی نہیں رہی، اس لئے لکھنؤ آگئے۔ لیکن دوبارہ 1919ء میں حیدرآباد گئے اور دارالترجمہ سے وابستہ ہوگئے۔ کئی کتابیں ترجمہ کیں۔ ایک کتاب فلسفے کے تقابلی مطالعے پر مبنی لکھی۔

مرزا ہادی رسواؔ نابغہ روزگار تھے۔ مختلف علوم پر ان کی دسترس تھی۔ فلسفہ، منطق، ریاضی، طب، مذہبیات، کیمیا، موسیقی اور نجوم کے علاوہ شاعری سے ان کی دلچسپی ثابت ہے۔ کہا جاتا ہے کہ انہوں نے شارٹ ہینڈ اور ٹائپ کا بورڈ بنایا۔ انہوں نے بہت کم عرصے میں چارناول لکھے۔ جن میں ’’امراؤجان ادا‘‘ سب سے زیادہ مشہور ہے اور اسی ناول کی بنیاد پر ان کی شہرت اور عظمت ہے۔ بہرحال! ان کے ناولوں کے نام ہیں ’’افشائے راز‘‘ (1896ء) ’’امراؤجان ادا‘‘ (1899ء) ’’ذات شریف‘‘ (1900ء) ’’شریف زادہ‘‘ (1900ء) اور ’’اختری بیگم‘‘ (1924ء)۔

مرزا رسوا ناول کے سلسلے میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے ’’افشائے راز‘‘ کے دیباچے میں، ’’ذات شریف‘‘ کے پیش لفظ میں اور ’’امراؤجان ادا‘‘ میں مختلف قسم کے تصورات پیش کرتے ہیں۔ ’’امراؤ جان ادا‘‘ میں منشی محمد حسین نے جو کچھ کہا ہے وہ دراصل ان کے ذہن و دماغ کی بھی فکر ہے۔ جملے ہیں:۔ ’’لکھنؤ میں چند روز رہنے کے بعد اہل زبان کی اصل بول چال کی خوبی کھلی۔ اکثر ناول نویسوں کے بے تکے قصے، مصنوعی زبان اور تعصب آمیز بیہودہ جوش دینے والی تقریریں آپ کے دل سے اتر گئیں۔‘‘

دراصل رسوا کو یہ احساس تھا کہ ناول کو اپنے زمانے کے حالات کا عکاس ہونا چاہئے۔ کردارنگاری محض غلو پر مبنی نہ ہو بلکہ اس میں کچھ حقائق ہوں، ناول فن کے تقاضے بھی پورا کرے اور اس کی زبان کردار کے مطابق ہو۔ ان باتوں کو اگر ذہن میں رکھیں تو ان کے اہم ناول ’’امراؤ جان ادا‘‘ کے بہت سے اوصاف ازخود نمایاں ہوجاتے ہیں۔
’’امراؤجان ادا‘‘ پر رائے زنی کرتے ہوئے علی عباس حسینی نے لکھا تھا کہ یہ رنڈی کی کہانی اسی کی زبان ہے۔ لیکن یہ رائے ناول کے حقائق کو پیش کرنے سے عاری ہے۔ طوائف کی کہانی کے پس منظر میں مرزا رسوا نے اپنے عہد کے لکھنؤ کی جو تصویر کشی کی ہے، وہ انہیں کا حصہ ہے۔ حیرت ہوتی ہے کہ بعض لوگ رنڈی اور رنڈی بازی کے اردگرد ہی اس ناول کا جائزہ لیتے ہیں، حالانکہ مرزا رسوا کا شعور ان حدود میں بند نہیں تھا۔ یہ ناول لکھنؤ کی زوال آمادہ تہذیب کا ایک نگارخانہ ہے جس کے حوالے سے بہت سی تصویریں ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ سکتے ہیں۔ اس ضمن میں خواجہ محمد زکریا نے لکھا ہے۔
’’۔۔۔ ناول کے آغاز میں رسوا ہمیں اودھ کی ایک غریب بستی کی معاشرت سے متعارف کراتے ہیں، پھر نگار خانے کے حوالے سے نوابوں کا تمدن سامنے لگایا گیا ہے، پھر امراؤ جان کے نگارخانے سے فرار کے بعد اس زمان کے غیر محفوظ راستوں، چوروں ڈاکوؤں کی کارروائیوں، سیاسی بے تدبیریوں اورفوجوں کی بزدلیوں کی طرف واضح اشارے کئے گئے ہیں۔ ناول کے آخری حصے میں اکبر علی خاں کے حوالے سے متوسط طبقے کے گھروں کے نقشے بیان کئے گئے ہیں، جو اب تک ناول نگار کے قابو میں نہیں آسکے تھے۔ غرض اس عہد کے اودھ کے ادنیٰ، متوسط اور اعلیٰ سبھی طبقوں کے اس زمانے کے طرز معاشرت کو اس ناول کا موضوع بنایا گیا ہے۔
بہرحال! کردارنگاری، نفسیاتی کیف و کم اور ردعمل تہذیب و معاشرت کے اظہار وغیرہ کی بنیاد پر اسے اردو کے اہم ترین ناولوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس پر ایک گرانقدر مضمون خورشیدالاسلام نے لکھا جو اس ناول کے خدوخال نیز اہمیت کو واضح کردیتا ہے۔

’’شریف زادہ‘‘ اور ’’ذات شریف‘‘ میں وہ کیف و کم نہیں ہے جو ’’امراؤجان ادا‘‘ میں ہے۔ ’’شریف زادہ‘‘ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ رسوا کی اپنی سوانح حیات ہے۔ لیکن ایسا بھی نہیں ہے کہ رسوا نے جس طرح زندگی گزاری ہے وہ سب کی سب اس میں موجود ہے۔

یہاں اس امر کی طرف اشارہ کرتا چلوں کہ ایک ناول ’’شاہد رعنا‘‘ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ رسوا کا ناول اس سے بہت مماثل ہے۔ لیکن میں سمجھتا ہوں کہ دونوں میں جس طرح کا فرق ہے وہ بہت واضح ہے اور یہ طوفانی بحث ہے، جسے میں یہاں چھیڑنا نہیں چاہتا۔ بہرطور! رسوا اپنے وقت کے ایک ایسے Genius تھے کہ اردو تاریخ میں ان کی جگہ محفوظ ہے۔