noImage

مرزا مائل دہلوی

1866 - 1894 | دلی, ہندوستان

مابعد کلاسکی شاعر،داغ دہلوی کے رنگ میں شعر گوئی کے مشہور

مابعد کلاسکی شاعر،داغ دہلوی کے رنگ میں شعر گوئی کے مشہور

مرزا مائل دہلوی کی اشعار

494
Favorite

باعتبار

تجھ کو دیکھا نہ ترے ناز و ادا کو دیکھا

تیری ہر طرز میں اک شان خدا کو دیکھا

مجھے کافر ہی بتاتا ہے یہ واعظ کمبخت

میں نے بندوں میں کئی بار خدا کو دیکھا

تلخی تمہارے وعظ میں ہے واعظو مگر

دیکھو تو کس مزے کی ہے تلخی شراب میں

مانیں جو میری بات مریدان بے ریا

دیں شیخ کو کفن تو ڈبو کر شراب میں

مائل کو جانتے بھی ہو حضرت ہیں ایک رند

کیا اعتبار آپ کے روزے نماز کا

توبہ کے ٹوٹتے کا ہے مائلؔ ملال کیوں

ایسی تو ہوتی رہتی ہے اکثر شباب میں

نہ کعبہ ہی تجلی گاہ ٹھہرایا نہ بت خانہ

لڑانا خوب آتا ہے تمہیں شیخ و برہمن کو

ایمان جائے یا رہے جو ہو بلا سے ہو

اب تو نظر میں وہ بت کافر سما گیا

عشق بھی کیا چیز ہے سہل بھی دشوار ہے

ان کو ادھر دیکھنا مجھ کو ادھر دیکھنا

دل کیا نگاہ مست سے مے خانہ بن گیا

مضمون عاشقانہ بھی رندانہ بن گیا

ملیں کسی سے تو بد نام ہوں زمانے میں

ابھی گئے ہیں وہ مجھ کو سنا کے پردے میں

عظمت کعبہ مسلم ہے مگر بت کدہ میں

ایک آرام یہ کیسا ہے کہ کچھ دور نہیں

تمہیں سمجھائیں تو کیا ہم کہ شیخ وقت ہو مائل

تم اپنے آپ کو دیکھو اور اک طفل برہمن کو