محمد نہال افروز کے افسانے
کفن کی دکان
سلیم ایک با صلاحیت نوجوان تھا۔ وہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے نوکری کی تلاش میں اِدھر اُدھر بھٹک رہاتھا۔ اسے نوکری ملنے کی کوئی صورت نظر نہیں آرہی تھی۔ سلیم ہی کی طرح ملک کے دیگرنوجوان بھی اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے باوجود بڑی تعداد میں بے روز گار تھے۔ ہر طرف
کفارہ
میں چونسٹھ سال کا ایک بزرگ نوجوان ہوں۔ میری تین اولادیں ہیں۔ دو بیٹے اور ایک بیٹی۔ سبھی کی شادیاں ہو چکی ہیں۔ بیٹی اپنے گھر خوش و خرم زندگی گزار رہی ہے۔ بڑا بیٹا انڈیگومیں پائلٹ ہے اور اس کی پوسٹنگ اس وقت حیدرآباد میں ہے۔ وہ وہیں پر اپنے دو نوں بچوں
احتساب
نور محمد بن فیضی شہر کے بہت رئیس اور نفیس شخص تھے۔ رئیس اس قدر کہ شہر کاامیر سے امیر اور رئیس سے رئیس آدمی بھی ان کو اپنا پیش رومانتا تھا۔ شہر کے بیشتر امیراور رئیس موقع بہ موقع ان کی دولت سرا پر حاضر ہوتے تھے۔ اور نفیس اس حد تک کہ بڑے سے بڑے نفاست پسند