محمد اعجازالحق کا تعارف
محمد اعجازالحق 7 مارچ 1999 کو تحصیل فورٹ عباس، ضلع بہاولنگر میں پیدا ہوئے۔ وہ عہدِ حاضر کے ان نمایاں ادیبوں اور شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے جدید اردو نظم کو فکری اور جمالیاتی سطح پر ایک منفرد جہت عطا کی ہے۔ ان کے ادبی سفر کا آغاز شاعری سے ہوا، تاہم بعد ازاں انہوں نے افسانوی نثر اور ناول نگاری میں بھی اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا اظہار کیا۔ اس کے باوجود ان کی بنیادی شناخت جدید اردو نظم کے ایک سنجیدہ اور صاحبِ فکر شاعر کی حیثیت سے قائم ہے۔
انہوں نے اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور سے بی ایس سی (باٹنی، کیمسٹری، زوالوجی) کی ڈگری حاصل کی اور اس کے بعدانگریزی زبان و ادب میں ایم اے کیا۔ پیشہ ورانہ طور پر وہ شعبۂ تعلیم سے وابستہ ہیں۔
ان کی انگریزی تصنیف Sapphire: The Blue Testament—Poems of Nausea and Aesthetic Redemption نے عالمی ادبی حلقوں میں توجہ حاصل کی، جب کہ اسی کا اردو روپ نیلمیں سحر (وجود کی مہملیت سے محبت کے اثبات تک) کے عنوان سے شب گھر پبلی کیشن، لاہور سے شائع ہو چکا ہے۔
محمد اعجازالحق ایک معتبر مترجم بھی ہیں۔ عالمی ادب کی منتخب نظموں کے ان کے تراجم خزاں کا عالم—عالمی شاہکار نظموں کا شعری عکس کے عنوان سے زیرِ طبع ہیں، جن میں دنیا کے نامور شعرا کی اہم نظموں کو اردو کے شعری آہنگ میں منتقل کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔