Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Mulla Abdur Rahman Jami's Photo'

ملا عبدالرحمان جامی

1414 - 1492

فارسی کے نامور صوفی شاعر، "خاتمُ الشعراء" کے لقب سے معروف

فارسی کے نامور صوفی شاعر، "خاتمُ الشعراء" کے لقب سے معروف

ملا عبدالرحمان جامی کا تعارف

تخلص : 'جامی'

اصلی نام : عبدالرحمان

پیدائش : 07 Nov 1414

وفات : 09 Nov 1492

شناخت: امام الفن، خاتم الشعراء، عالمِ دین، نامور صوفی شاعر، مؤرخ اور "نور الدین" و "الشیخ الرئیس" جیسے القابات سے معروف ہمہ جہت شخصیت

مولانا نور الدین عبد الرحمٰن جامی کی ولادت 23 شعبان 817ھ مطابق 7 نومبر 1414ء کو خراسان کے علاقے جام کے قصبہ خرجرد میں ہوئی، جو موجودہ افغانستان میں واقع ہے۔ ان کے والد احمد بن محمد دشتی ایک معزز علمی شخصیت تھے، جنہوں نے ابتدائی تربیت میں بنیادی کردار ادا کیا۔ کم سنی ہی میں وہ ہرات منتقل ہو گئے، جو اس دور میں علم و فن کا ایک اہم مرکز تھا۔ یہی ماحول ان کی علمی نشوونما کا سبب بنا۔

عبدالرحمٰن جامی کا شمار اپنے عہد کے علمائے اسلام اور صوفیائے کرام کی صفِ اول میں ہوتا ہے۔ ان کا تعلیمی سفر ہرات اور سمرقند کے مشہور مراکزِ علم سے وابستہ رہا، جہاں انہوں نے عربی، منطق، ہیئت اور فقہ میں وہ کمال حاصل کیا کہ قاضی زادہ روم جیسے جید عالم نے اعتراف کیا کہ "سمرقند کی آبادی سے اب تک اس نوجوان کے پائے کا کوئی شخص آمو دریا پار کر کے ادھر نہیں آیا"۔ ان کی ذہانت کا یہ عالم تھا کہ تدریس کے دوران ہی قدیم کتب اور حواشی کی اصلاح فرما دیا کرتے تھے۔ سلوک و عرفان میں ان کا تعلق سعد الدین محمد کاشغری کے حلقۂ طریقت سے تھا، جہاں وہ بلند مقام پر فائز ہوئے۔ وہ درویش منش اور گوشہ نشین تھے، تاہم سلطان حسین مرزا اور سلطان محمد فاتح جیسی عظیم شخصیات ان کا بے حد احترام کرتی تھیں۔

عبدالرحمٰن جامی کی علمی و ادبی خدمات کا دائرہ نظم و نثر کی 49 تصانیف پر محیط ہے۔ شاعری میں ان کا مجموعہ 'ہفت اورنگ' (جس میں یوسف زلیخا، لیلیٰ مجنوں اور سلسلۃ الذہب شامل ہیں) فارسی ادب کا شاہکار مانا جاتا ہے۔ نثر میں انہوں نے تصوف، روحانیت اور تاریخ پر 11 اہم کتب تحریر کیں۔ ان کے کلام میں عشقِ رسول اور معرفتِ الٰہی کا رنگ اس قدر نمایاں ہے کہ ان کو "خاتم الشعراء" (کلاسیکی فارسی شعراء میں آخری بڑا شاعر) کہا جاتا ہے۔ انہوں نے 1472ء میں حج بیت اللہ کی سعادت حاصل کی اور مختلف بلادِ اسلامیہ کی سیاحت کے بعد ہرات کو اپنا مستقل مسکن بنایا۔ ان کی پوری زندگی دینِ اسلام کی ترویج اور علم و ادب کی آبیاری میں گزری۔

وفات: 18 محرم الحرام 898ھ مطابق 1492ء کو ہرات (افغانستان) میں انتقال ہوا اور وہیں آسودہ خاک ہیں۔

موضوعات

Recitation

بولیے