منزہ احتشام گوندل کے افسانے
کبالہ
تو یوں ہے کہ وہ ایک فنکار کی باہوں میں مر گئی۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب اس نے ایک نیا حکمنامہ حاصل کرنے کے لیے عدالت سے رجوع کیا تھا۔ میں عدالت کی بجائے عدالت عالیہ کا لفظ استعمال کروں تو زیادہ بہتر ہوگا۔ اسے عدالت عالیہ سے بڑی امیدیں تھیں کہ وہ اس
آخری خواہش
پھانسی سے قبل اس سے اس کی آخری خواہش پوچھی گئی تو اس نے ایک عجیب و غریب خواہش کا اظہار کر کے سب کو چونکا دیا۔ میں گاؤں کی بڑی والی مسجد کے احاطے میں اسی منبر پہ کھڑا ہو کے تقریر کرنا چاہتا ہوں۔ جس منبر پر کھڑے ہو کر مولوی عبد الکریم نے خطبہ دیا تھا،
آئینہ گر
ہستی اور نیستی کے سارے اسرار چھوٹے چھوٹے لمحوں کی کوکھ سے پھوٹتے ہیں لمحے جوکہ آتے رہتے ہیں مگر کم کم آتے ہیں کہ جن کے بطن سے حقیقی خوشیوں اور لذتوں کے سرچشموں کو جنم لینا ہوتا ہے۔ چاول پلیٹ میں ڈال دو؛سکرین سے نظریں ہٹائے بغیر انہوں نے کہا، وہ آگے
تصویر
آؤ، آؤ یہاں بیٹھو اس صوفے پر سفید بالوں والے پینسٹھ سالہ آدمی نے اس کو نشست گاہ کی دروازے کے سامنے والی پچھلی دیوار کے ساتھ لگے صوفے پر بٹھا دیا اور خود دوبارہ بغلی کمرے میں غائب ہو گیا۔ وہ خاموشی کے ساتھ سکڑ کر وہاں بیٹھ گئی جب گھونگریالے سفید بالوں