ناصر کاس گنجوی کا تعارف
دن تو پھر دن ہے گزر جاتا ہے
رات کٹتی ہے بڑی مشکل سے
شاعر، ادیب اور فلمی نغمہ نگار جناب ناصر کاس گنجوی کی پیدائش 10 اکتوبر 1928 کو ضلع کاس گنج (ایٹہ) میں ہوئی۔ ان کا اصل نام ناصر محمود خاں تھا۔ ان کے والد کا نام علامہ احمد خاں "کیفی کاس گنجوی" تھا جو ایک شاعر تھے۔ انہوں نے میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کی تعلیم کاس گنج میں حاصل کی۔ 1949 میں تقسیمِ ہند کے بعد وہ پاکستان منتقل ہو گئے۔ انہوں نے گریجویشن کی تعلیم کراچی سے حاصل کی اور اورینٹ ایئرویز میں ملازمت اختیار کی۔ بعد ازاں وزارتِ صنعت کے ادارے سپلائی اینڈ ڈیولپمنٹ میں ملازمت کی۔ اس ادارے سے قبل از وقت ریٹائرمنٹ لے کر اپنی بہنوں کے قائم کردہ "گلشن گرامر اسکول" میں پرنسپل ہو گئے۔ابتدا ہی سے وہ اپنے والد کے دوست جگر مرادآبادی سے بے حد متاثر رہے۔
ناصر کاس گنجوی فلمی صنعت سے بھی وابستہ رہے۔ انہوں نے پاکستان کی اولین سنیما اسکوپ فلم "جان پہچان" (1967ء) کے نغمات تحریر کیے۔ انہوں نے غزل، نظم اور نعت جیسی اصناف میں طبع آزمائی کی۔
ان کی تصانیف میں "خمارِ دوش"، "سرورِ امروز"، "جذب و جنوں"، "ریزہ ریزہ سنگ" اور "دیارِ گل" شامل ہیں۔ناصر کاس گنجوی 2001ء میں سرطان (کینسر) کے مرض کا شکار ہو گئے۔ اسی سبب وہ 22 جون 2002ء کو اس دارِ فانی سے کوچ کر گئے۔ انہیں کراچی کے قبرستان گلشنِ اقبال میں سپردِ خاک کیا گیا۔