Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
noImage

نظیر محسن

نظیر محسن کا تعارف

نظیرؔ محسن، نظیر جہاں
پہلے نازؔ تخلص کرتی تھیں۔ شاہجہانپوروطن تھا۔ بچپن لکھنؤ اور بریلی میں گذرا والد محسن علی خاں پولیس کے عہدیدار تھے انہیں کی مناسبت سے نظیرؔ محسن لکھتی ہیں۔ والد پولیس کے محکمہ سے وابستگی کے باوجود علی و ادبی ذوق رکھتے تھے۔ محققانہ کتابیں پڑھتے تھے۔ اسلامیات اور تاریخ کے مطالعہ کا شوق تھا۔ نظیر جہاں کو بھی علمی و ادبی کتابیں پڑھنے کا شوق رہا۔
ابتدائی تعلیم لکھنؤ کے لال باغ کا نونٹ اور کرامت حسین مسلم گرلز کالج میں ہوئی۔ فسادات کے زمانہ میں ایک سال حیدر آباد میں بھی گذرا۔ ایم اے اور بی ایڈ پنجاب یونیورسٹی سے کیا۔ پاکستان میں قیام ہے جہاں ایک گورنمنٹ کالج اردو کی لکچرار ہیں۔
محترمہ کے دادا کو مشاعرے منعقد کرنے کا شوق تھا۔ ایک بار دادا کو خط لکھا تو اس میں اکبرؔ کا ایک مزاحیہ شعر بھی نقل کردیا۔ انہوں نے پوتی سے کہا
’’بات تو جب ہے کہ اپنے آپ شعر کہو‘‘
بس کہنا شروع کردیا تقسیم سے پہلے نظیرؔ کا جواں بھائی معمولی علالت کے بعد فوت ہوگیا۔ بھائی کی موت، فسادات کی تباہی، حیدرآباد کی بربادی، پاکستان کو ہجرت اور والد محترم کی وفات ان حادثات نے دل پر عجیب اثر ڈالا لکھنے پڑھنے کا حوصلہ پست ہوگیا مگر شاعری بہرحال جاری رہی۔

موضوعات

Recitation

بولیے