Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
noImage

نازش بدایونی

1875 - 1936 | بدایوں, انڈیا

غالبؔ کے شاگرد ذکیؔ سے اصلاح پانے والے بدایوں کے معروف شاعر، ناول نگار اور رباعیات کے ممتاز شاعر

غالبؔ کے شاگرد ذکیؔ سے اصلاح پانے والے بدایوں کے معروف شاعر، ناول نگار اور رباعیات کے ممتاز شاعر

نازش بدایونی کا تعارف

تخلص : 'نازش'

اصلی نام : محمد مبین نازش سلیمانی بدایونی

پیدائش :بدایوں, اتر پردیش

وفات : 21 Jul 1936 | بدایوں, اتر پردیش

بدایوں کے مشہور و معروف شعراء میں ایک نام حضرت نازش بدایونی کا بھی آتا ہے جن کی پیدائش 1875ء میں بدایوں میں ہوئی۔ ان کا پورا نام محمد مبین نازش سلیمانی بدایونی تھا۔ ان کے والد کا نام شیخ محمد متین سلیمانی تھا۔ ان کے آبا و اجداد کا تعلق شیخ عبداللہ مکی قریشی کی اولاد سے تھا جن کا تعلق قبیلۂ قریش سے تھا، جو 610 ہجری میں ہجرت کرکے بدایوں تشریف لائے تھے۔ ان کے اجداد کے ایک بزرگ ابو سلیمان انورالدین تھے جو بادشاہ جہانگیر کے اساتذہ میں سے تھے۔ مغل حکومت کے دور میں اس خاندان کے کئی افراد کو شاہی خدمات کا شرف حاصل ہوا۔ انگریزی حکومت میں بھی اس خاندان کے لوگوں نے خوب ترقی کی اور اعلیٰ عہدوں پر فائز ہوئے۔ نازش بدایونی کے والدِ محترم محمد متین صاحب بھی اچھے شاعر تھے اور داغؔ دہلوی کے قدیم تلامذہ میں شمار کیے جاتے تھے۔

محمد مبین نے اپنی ابتدائی تعلیم گھر پر حاصل کی۔ انہوں نے بدایوں کے مشن اسکول میں انگریزی تعلیم بھی حاصل کی، مگر نازش صاحب کو انگریزی زبان اور انگریزیت سے قدرتی نفرت تھی۔ یہی وجہ تھی کہ انگریزی تعلیم چھوڑ کر انہوں نے عربی اور فارسی کی تعلیم پر خاص توجہ دی۔

بچپن سے ہی شاعری کا شوق ہوا اور اپنا تخلص "ناز" کے ساتھ ساتھ کچھ عرصہ "زاغ" بھی رکھا۔ انہوں نے سید محمد ذکریا خاں "ذکی"، جو غالبؔ کے شاگرد تھے، سے اصلاحِ سخن حاصل کی۔ احمد علی شوقؔ قدوائی آپ کے والدِ محترم کے دوست تھے، انہوں نے "نازش" تخلص تجویز کیا، جسے نازش صاحب نے قبول کر لیا۔ وہ اپنے ظریفانہ کلام کی بدولت شہرت حاصل کر چکے تھے۔ اسی زمانے میں 1892ء میں پٹودی کے نواب قاسم علی خاں مزاق میاں کے عرس کے موقع پر بدایوں تشریف لائے تو انہوں نے نازش صاحب سے ان کا کلام سننے کی فرمائش کی اور ان سے متاثر ہوئے۔ نواب صاحب انہیں اپنے ساتھ دہلی لے گئے۔نازش بدایونی جب بدایوں سے دہلی مقیم ہوئے تو وہاں انہوں نے "لال بی بی" کے نام سے ایک ناول لکھا جو مقبول ہوا۔ دہلی میں ان کی شادی ہوئی، لیکن کچھ سالوں بعد ان کی اہلیہ کا انتقال ہو گیا۔ دہلی میں انہوں نے کئی اخبارات میں مضامین لکھے اور شعری محفلوں میں شرکت کیا کرتے تھے۔

1899ء میں وہ دہلی سے بدایوں واپس آ گئے اور تمام عمر یہیں بسر کی۔ انہوں نے بریلی کے علاوہ لکھنؤ کے روزنامہ "ہمدم" کے لیے بھی کالم لکھے۔ استاد نازش صاحب نے غزل کے علاوہ سلام، مرثیہ، حمد و نعت میں بھی طبع آزمائی کی۔ ان کے کلام میں غالبؔ اور ریاضؔ کا رنگ نمایاں نظر آتا ہے۔


نازش صاحب اپنی تخلیقات کو ایک ٹین کے ڈبے میں رکھا کرتے تھے۔ ایک دفعہ بدایوں سے لکھنؤ جا رہے تھے کہ ٹرین میں ایک دودھ والے نے ان کا وہ ڈبہ اپنے ڈبے کی بجائے اٹھا لیا اور راستے میں اتر گیا۔ انہوں نے ٹرین کی زنجیر کھینچ کر اس دودھ والے کو بہت تلاش کیا مگر وہ نہ مل سکا۔ اس حادثے کے بعد انہوں نے اپنی تخلیقات کو مختلف اخبارات اور رسائل سے یکجا کیا، اور ان کے دوست مولانا حسرت موہانی نے وہ تمام کلام مجموعے کی شکل میں شائع کرایا۔ انہوں نے اپنی حیات میں صرف "رباعیاتِ نازش" کے عنوان سے ایک مجموعہ 1935ء میں کانپور سے شائع کرایا تھا۔ 1986ء میں طیب بخش بدایونی صاحب نے "انتخابِ کلامِ نازش" کے عنوان سے ان کے کلام اور حیات پر ایک کتاب شائع کی۔طویل علالت کے باعث 21 جولائی 1936ء کو وہ بدایوں میں اس دارِ فانی سے رخصت ہو گئے.

موضوعات

Recitation

بولیے