noImage

قصری کانپوری

1914 - 1996

کوئی منزل کے قریب آ کے بھٹک جاتا ہے

کوئی منزل پہ پہنچتا ہے بھٹک جانے سے

جب سے اک شخص میرے دھیان میں ہے

کتنی خوشبو مرے مکان میں ہے

غلط ہے آپ کا اندازۂ نظر قصریؔ

برا ضرور ہوں پر اس قدر برا بھی نہیں

یہ کون شخص ہے اس کو ذرا بلاؤ تو

یہ میرے حال پہ کیوں مسکرا کے گزرا ہے

اپنے کاندھوں سے اٹھائے ہوئے حالات کا بوجھ

راستے چیخ پڑے لوگ جدھر سے گزرے

آپ حق گوئی کی جو چاہیں سزا دیں مجھ کو

آپ خود جیسے ہیں ویسا ہی کہا ہے میں نے

یہی ہے رسم زمانہ تو پھر گلہ کیسا

کوئی جلائے چراغوں کو اور بجھائے کوئی