قرب عباس کے افسانے
ادھوری
اتوار کی ٹھنڈی اور مہکتی صبح تھی۔۔۔ صحن کی طرف کھلنے والی کھڑکی میں نصب شیشے کے سامنے ایک بلبل مسلسل اپنے پھیکے عکس سے لڑ رہی تھی۔ چونچ اور شیشے کے ٹکراؤ سے پیدا ہونے والی آواز کے سبب جویریا کی آنکھ کھلی تو اس نے موبائل پر وقت دیکھا۔ ابھی تو صرف سات
پھانسی
یہ کہانی دھند نے لکھی ہے اور آپ تو جانتے ہیں کہ دھند ہمیشہ ظالم کہانیاں لکھتی ہے۔ جو ابھی ابھی سفید گاڑی یہاں سے گزری ہے، اس میں سوار تین لوگ اس کوشش میں ہیں کہ صبح ہونے سے پہلے سپریم کورٹ تک پہنچ جائیں۔ دورانِ سفر جرم اور مجرم انکا موضوع ہے۔۔۔
بارگاہ خداوند
گاؤں کی دهند میں لپٹی سسکتی رات بےکسی کا لحاف اوڑهے سو رہی تھی اور ‘سونا’ بڑهاپے کے اندھیروں میں گم ہوتی بےثمر زندگی کا آخری کنارہ تهامے اپنے جائز ناجائز ہونے کی گتھیوں کو سلجھانے کی کوشش کر رہا تھا۔ پڑوسیوں کا لڑکا حسب معمول اپنے گهر سے لایا کھانا
اپرنا
محبت میں تم تن کی سیما کو پار کیے بنا من کی دنیا تک نہیں پہنچ سکتے اور پھر تم ایک دوسرے کے ساتھ رہتے ہوئے کتنے آزاد ہو، تمہارا ساتھی کتنا آزاد ہے اس بات کا پتا تو بعد میں ہی چلتا ہے۔ یہ جملہ اپرنا نے شیتل کے گھر پہلی ملاقات میں کہا تھا۔ شیتل
چاکلیٹ
گلیوں میں رات اترتے ہی ہم تو گہری نیند سو جاتے ہیں۔۔۔ ہم۔۔۔ ہم بیچارے تھکن سے چور نیند کے مارے، بے خبر اور بہرے کچھ نہیں جانتے، یہ بھی نہیں کہ۔۔۔ اس رات کے سناٹے میں کتنی کہانیاں سسکیاں بھرتی ہیں۔ میں اپنے اندھیرے کمرے میں لیٹا ہوا تھا، لائٹ نہ