Rafique Khayal's Photo'

رفیق خیال

غزل 22

نظم 2

 

اشعار 3

بات تو جب ہے کہ جذبوں سے صداقت پھوٹے

یوں تو دعویٰ ہے ہر اک شخص کو سچائی کا

تفصیل عنایات تو اب یاد نہیں ہے

پر پہلی ملاقات کی شب یاد ہے مجھ کو

تم سمندر کے سہمے ہوئے جوش کو میرا پیغام دینا

موسم حبس میں پھر کوئی آج تازہ ہوا چاہتا ہے

 

Added to your favorites

Removed from your favorites