راجہ یوسف کے افسانے
ایک دوجے کے لیے
وہ روشنی کی شہزادی تھی۔ میں روئی جیسے گالوں سے بنے بادلوں کا باشندہ۔ میں اسے ہمیشہ روشنیوں کے سہارے ہی دیکھتا تھا۔ کبھی چاندنی کی نورانی کرنوں میں اس کا عکس ابھر آتا تھا تو کبھی سورج جیسی روشنی میں اس کے مدھم مدھم نقوش میری آنکھوں کو خیرہ کر دیتے تھے۔
بند کھڑکی کا کرب
میری بےچینی بےسبب نہیں تھی۔ ذہن و دل میں ایسا طلاطم بپا تھا جو مجھے ایک پل بھی سکون سے بیٹھنے نہیں دے رہا تھا۔ میں اپنی کھڑکی سے سامنے والے گھر کی تیسری کھڑکی کو بار بار دیکھ رہی تھی۔ یہ پچھلے پانچ دن سے لگاتار بند پڑی تھی۔ حالات کتنے بھی خراب ہو جاتے،