رتن سنگھ کے ذریعے کیے گئے تراجم
بم بہادر
مہاوت ماتادین نے مہاراج کے پاس شکایت کی کہ ہاتھی بم بہادر کئی دنوں سے ضدی ہوتا جا رہا ہے اور کہنا نہیں مانتا۔ ہتھنی کے بیمار ہونے کی وجہ سے ویدجی نے اسے گھمانا بند کیا ہوا ہے لیکن بم بہادر شام کو بڑا اودھم مچاتا ہے اور جب تک ہتھنی کا اس کے ساتھ ایک چکر
پنکھی
وہ پانچ تھے کل ملاکر۔ اے کے سینتالیس اسالٹ بندوقوں سے لیس۔ شام کے چار بجے تھے جب وہ قصبے سے ذرا سا دور، چودھریوں کے پولٹری فارم پر آئے۔ چودھری بہت بڑے آدمی تھے۔ اپنے علاقے میں وہ ساہوکار کے نام سے مشہور تھے۔ خاندانی ساہوکار۔ سو سال ہوئے جب ان کے بزرگ
نیزوں کی رت
جلتے ہوئے کوئلوں سے پوری طرح بھری بھٹی پر جھکے دِینے لوہار کا لوہے کے رنگ کا جسم، تانبے کی طرح دمکنے لگا تھا۔ اس کا وجود تانبے میں ڈھلے ایک تندرست محنت کش کاریگر کامجسم بت لگ رہا تھا۔ بازوؤں کے ایک تکڑے زوردار جھٹکے کے ساتھ اس نے ہتھوڑے کو اپنے گرد گھمایا۔
انوکھ سنگھ کی بیوی
اگر کبھی آج کل لاہور جانے کا اتفاق ہو تو آپ کو وہاں کے اسٹیشن کے سیکنڈ کلاس ٹکٹ گھر کی ڈیوڑھی پر منڈراتا انوکھ سنگھ ملےگا۔ گھبرایا اور پگلایا سا، آنکھوں میں ایک پتھر ہو رہی نظر، سفید داڑھی، جسے دیکھ کر یہ صاف پتہ چلےگا کہ کبھی یہ کالی کی جاتی رہی ہے۔
راس لیلا
میں تب کوئی نو دس سال کا رہا ہوں گا۔ جس کوٹھی میں ہم رہتے تھے۔ اس میں تین پریواروں کے رہنے کے لیے کھلی جگہ تھی۔ ایک حصے میں ہم رہتے تھے اور دوسرے میں امرتسر کے مشہور ٹھیکیدار سردار، تیسرا بھی ایک ہندو بیوپاری تھا اور اس کی عمر میرے اب کے اندازے کے مطابق
دودھ کا جوہڑ
چاچے تائے کے بیٹے ہونے کی وجہ سے لال اور دیال کا آپس میں بڑا پیار تھا۔ ان کی کھیتی بھی اکٹھی تھی۔ گاؤں کے ماحول میں ایسے اکٹھ کابڑا رعب پڑتا ہے۔ دوسگے بھائیوں کی بجائے اگر دو چاچے تائے کے بیٹے مل کر چلتے ہوں، تو ان کو اور بھی بڑی طاقت سمجھا جاتا ہے۔
ڈر
جب کبھی وہ ’’گدھے‘‘ کو چھاتی سے لگاکر، باہوں میں بھر کر دباتی یا اس کا منہ چوم لیتی تو ’’گدھے‘‘ کو بخار چڑھ جاتا، ٹٹیاں لگ جاتیں اور وہ الٹیاں کرنے لگتا۔ وہ روٹی کی طرف منہ اٹھاکر نہ دیکھتا، بیمار پڑجاتا۔ اس کی ساس سر پیٹ لیتی، ’’تمہیں کئی بار کہا ہے،
سردارنی
حویلی گاؤں کے بیچ و بیچ اور چوراہے والے اس بڑے کنویں کے نزدیک تھی جہاں سے سارا گاؤں پانی بھرنے آتا تھا۔ کنویں سے تھوڑا ہٹ کر بڑا سا پیپل تھا، جسے گاؤں کے لوگ براہمنوں کا پیپل کہتے تھے۔ یہ کنواں اور پیپل بھی گاؤں کی شان تھے۔ کوئی وقت تھا جو حویلی زیلداروں