رؤف خلش کے اشعار
بکھرتے خوابوں سے تعبیر کے دھندلکوں تک
مہاجرت نے کچوکے بہت لگائے ہیں
جس تناظر میں بھی دیکھو خوش جمالوں کو خلشؔ
زاویہ بگڑا نظر کا سارے بگڑے زاویہ
ویسے تو دیکھنے میں جاذب نظر ہیں نقشے
کچھ تو خلشؔ کمی ہے اونچی عمارتوں میں
زخموں کو پھول کر دے تنہائیوں کو مرہم
سو قربتوں پہ بھاری ہجرت کا ایک موسم
اترو خود اپنی ذات کی گہرائی میں خلشؔ
ابھرے جو اپنے آپ کو پانے کی آرزو
غم کی دھوپ اترتے ہی کیوں پگھلنے لگتی ہے
یاد کے گھروندے میں موم کی بنی کھڑکی
جذب کر کے رکھ لینا دستکیں ہتھیلی میں
جب سے میں سفر میں ہوں ہم سفر ہیں دروازے
اترو خود اپنی ذات کی گہرائی میں خلشؔ
ابھرے جو اپنے آپ کو پانے کی آرزو
گزرتے وقت کے آثار کون چھوڑ گیا
زمانے ٹل گئے لیکن اٹل رہے ہیں ستون
کہیں ہجوم میں تنہائی مل گئی تھی مجھے
میں رو دیا تری یادوں سے گفتگو کر کے
تیری گفتار خلش اور قرینہ مانگے
بول میٹھے سہی لہجے میں ذرا تلخی ہے