رضیہ کاظمی کے افسانچے
وبائ بخار
فریدہ نے مائکروویو میں فردافردا سبھی کھانے گرم کرکے میز پر لگادئے۔ روٹی گرم کرنے سےپہلے اس نےاپنی والدہ مسز عزیز اور اپنے شوہر ندیم کو ڈنر کے لئے آواز بھی لگادی تھی۔ندیم اس وقت فیملی روم میں تھا اور اس کی ماں اوپر گیسٹ روم میں۔ مسز عزیز ایک آوازپر آگئیں
ڈسپلن
سویرے اسکول جانے سے پہلے سیمانےجب اپنے آٹھ سالہ بیٹے ارشد کا اسکول بیگ سیٹ کرنے کے لئے اٹھایاتو اس میں اسےایک لفافہ ملا جس میں اسکول کی پرنسپل کی طرف سے آج لنچ ٹائم میں ارجنٹ گارجین میٹنگ کی اطلاع تھی ۔ ارشد نے اسےاس کے بارے میں بتایا کیوں نہیں یہ سوچ
لمبا بال
میں جب آفس سے سیدھے گھر پہنچاتو شاہینہ کسی سہیلی کے انتظار میں تھی لیکن اس نےدونوں بچوں احمر اور شوبی کو تیار کردیا تھا۔ ہر سنیچر کےشام کی طرح پروگرام کے مطابق مجھےآج بھی ان کے ساتھ تھوڑی دیر مال میں ادھر اودھر تفریح کرنا اور وہاں سے نکل کر پھر کسی دیسی
کمیشن ریٹ
میں ایک مشہور بڑی فارمیسی کے کاؤنٹرپر اپنی باری کے انتظار میں کھڑی تھی۔تب ہی ایک بوڑھا لڑکھڑاتا ہوالاٹھیوں کے سہارے آیا۔ لائن میں کھڑے لوگوں نے اسے کاؤنٹر تک چلا جانےدیا۔کھڑکی پر پہنچ کر اسنے اپنے میلے کچیلے انگوچھے سے کئیدواؤں کے پیکٹ ، شیشیاں اور انجکشنس