ثانی ارریاوی کا تعارف
زبیر احمد ثانی تخلص ثانی ارریاوی، یکم جنوری 2001ء کو ڈومریا، رانی گنج، ضلع ارریا (بہار) میں پیدا ہوئے۔ وہ نئی نسل کے ایک ابھرتے ہوئے شاعر ہیں جن کی شاعری میں جذبے کی شدت، فکر کی پختگی اور اندازِ بیان کی انفرادیت نمایاں ہے۔
ان کے کلام میں کلاسیکی روایت کی نزاکت اور جدید اسلوب کی تازگی کا حسین امتزاج پایا جاتا ہے۔ بچپن ہی سے شعر و ادب سے گہری وابستگی نے ان کے تخلیقی شعور کو جِلا بخشی، جس کے باعث ان کی شاعری میں زودگوئی کے ساتھ ساتھ خوب گوئی بھی نظر آتی ہے۔
ثانی ارریاوی بنیادی طور پر غزل اور نظم کے شاعر ہیں، لیکن حمد، نعت، قصیدہ، منقبت، مرثیہ، قطعات اور رباعیات میں بھی طبع آزمائی کرتے ہیں۔ ان کے اشعار میں محبت، زندگی، سماجی مسائل اور مظاہرِ فطرت بھرپور انداز میں جلوہ گر ہوتے ہیں۔ انہوں نے دارالعلوم دیوبند سے فضیلت و افتاء کی تکمیل کی اور اس کے بعد مونگیر میں درس و تدریس سے وابستہ ہو گئے، جہاں وہ دینی علوم کے ساتھ ساتھ اردو ادب کی ترویج میں بھی سرگرم ہیں۔
ان کا کلام مختلف اخبارات و رسائل میں شائع ہو چکا ہے اور وہ ادبی حلقوں میں طلبہ کی رہنمائی بھی کرتے ہیں، اور ان کے شاگرد اردو ادب کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں۔