Safi Lakhnavi's Photo'

صفی لکھنوی

1862 - 1950 | لکھنؤ, ہندوستان

کلاسیکی کے آخری اہم شعراء میں ایک بیحد مقبول نام

کلاسیکی کے آخری اہم شعراء میں ایک بیحد مقبول نام

تخلص : 'صفی'

اصلی نام : سید علی نقی زیدی

پیدائش : 03 Jan 1862 | لکھنؤ, ہندوستان

وفات : 25 Jun 1950 | لکھنؤ, ہندوستان

بناوٹ ہو تو ایسی ہو کہ جس سے سادگی ٹپکے

زیادہ ہو تو اصلی حسن چھپ جاتا ہے زیور سے

صفی کا نام سید علی نقی زیدی تھا ، صفی تخلص کرتے تھے والد کا نام سید فضل حسن تھا ۔ ابتدائی تعلیم والد سے حاصل کرنے کے بعد نجم الدین کاکوروی سے فارسی اور مولوی احمد علی سے عربی زبان سیکھی ۔ کیننگ کالج میں انٹرنس کی تعلیم حاصل کی اور کیننگ کالج سے متعلقہ اسکول میں انگریزی زبان کے استاد کی حثیت سے معلمی کے فرائض انجام دئے ۔ 1883 میں سرکاری ملازمت اختیار کی اور محکمہ دیوانی میں مختلف عہدوں پر فائز رہے ۔
صفی نے لکھنو کے عام شعری مزاج سے الگ ہٹ کر شاعری کی ، ان کا یہی انفراد ان کی شناخت بنا ۔ مولانا حسرت موہانی انہیں ’ مصلح طرز لکھنؤ ‘ کہا کرتے تھے ۔

صفی نے غزل کی عام روایت سے ہٹ کر نظم کی صنف میں خاص دلچسپی لی ۔ انہوں نے سلسلہ وار قومی نظمیں بھی کہیں جو خاص طور سے ان کے عہد کے سماجی ، سیاسی اور تہذیبی مسائل کی عکاس ہیں ۔ اس کے علاوہ قصیدہ ، رباعی اور مثنوی جیسی اصناف میں بھی طبع آزمائی کی ۔ صفی کی نظمیں اور غزلیں پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ وہ شعوری یا غیر شعوری طور پر لکھنو کی خاص روایتی طرز کو بدلنے کی طرف مائل تھے ۔