سلمیٰ اعوان کے افسانے
عورت اور ماں
ماہ رخ مجید کی محبت۔ اس کا عشق اور اس کا جنون ایک طرح عمل تکلیس تھا۔ اس عمل میں اس کے پاس پیتل جیسی کم مایہ دھات ہی تھی جسے وہ سونا بنانے کی زبردست تگ و دو میں مہوس بن گئی تھی۔ یہ بھی نہیں کہ وہ بے خبر تھی کہ ایسا کرنے والے لوگوں کی جد و جہد اور مساعی
بیچ بچولن
میرا باپ ذات کا اعوان پر پیشے کا ترکھان تھا۔ موٹی موٹی باہر کو ابلتی ہوئی سرخ سرخ آنکھوں میں شاید ہی کبھی نرمی اور حلاوت گھلی ہوئی نظر آئی ہو۔ سدا غصہ اور تناؤ ہی موجیں مارتے دیکھا۔ پاؤں میں پھٹا پرانا جو تا، لنڈے کی خستہ حال پینٹ، بے ڈھنگی سی قمیض جس
جال
سلیمہ عزیز اپنی روزمرہ زندگی کے ہر چھوٹے بڑے واقعے اور حادثے کو کالی داس کی حکایتوں سے جوڑنے میں بڑی مہارت رکھتی ہے۔ پر دکھ کی بات تو یہ ہے کہ یہ کہانی جس کی وہ راوی ہے اس کی مماثلت میں اس نے ناکامی کا منہ دیکھا ہے۔ اس کا خیال ہے قدیم انسان جدید انسان
لونا چماری
اب اللہ جانے کہ ان دو لفظوں کے پس منظر میں کیا بات تھی کہ اس چوڑی گلی میں ٹارنیڈو نوّے میل فی گھنٹہ کی رفتار سے آیا اور اودھم مچا گیا۔ بالاں ماچھن کے ہاتھ فضا میں یوں لہراتے تھے جیسے میدان جنگ میں تلواریں۔ منہ کے زاوئیے یوں بگڑتے تھے جیسے کڑوی کسیلی
خبر ہونے تک
مختصر سا خط تھا۔ چار لائنوں کا۔ ایک لائن القاب میں ضائع ہوئی تھی دوسری سلام و دعا میں اور بقیہ دو لائنوں میں اس نے اپنے پہنچنے کی تاریخ، دن، فلائٹ نمبر اور اپنا نام لکھا تھا۔ میرے اوپر دو کیفیات بیک وقت وارد ہوئی تھیں۔ بےپناہ خوشی اور بےپناہ حیرت۔