صنوبر الطاف کے افسانے
ایک بے خواب دوپہر کا فلیش بیک
آج دوپہر کے وقت جب میں کھانے کے بعد آنکھیں بند کیے پڑی تھی تو میرے پاس ایک شخص آیا اور مجھے اٹھا کر کہنے لگا۔ ’’اٹھو وقت آگیا ہے انقلاب لانے کا۔‘‘ ’’کیسا انقلاب؟ کون ہو تم؟‘‘ ’’ارے یہ میں ہوں۔ تمہاری بغاوت، تمہارا انقلاب۔ مجھے پہچانا نہیں تم
لکھت لکھواتی ہے
میں ایک پیشہ ور لکھاری ہوں۔ منظروں سے اپنی لکھت کشید کرتا ہوں۔ خاموشی میں دبی سسکیوں کو سنتا ہوں، آہوں کا مطلب سمجھتا ہوں، بند آنکھوں کے خوابوں کو دیکھ سکتا ہوں، درد سے بلکتے انسانوں کی بے آواز چیخوں کو سنتا ہوں اور پھر انہیں لکھتا ہوں۔ میں ان
ہم جو روشن سی راہوں میں مارے گئے!
قاسم آباد کی رونقیں آج عروج پر ہیں۔ ظاہری رونق اور چہل پہل سے قطع نظر یہ وہ رونق ہے جو اہل محلہ کے چہروں پر نظر آرہی ہے۔ یہ وہ رونق ہے جو چاند رات پر بچوں کے چہروں پر چمکتی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ آج ان کے قہقہے سا ری حدیں توڑ کر نکل رہے ہیں۔ اہل
کینچلی
کاش سانپوں کی طرح انسان بھی اپنی کینچلی اتار سکتا۔ ایک نئے اوتار کے ساتھ اس دنیا میں داخل ہوتا۔ ایک نیا جنم لیتا۔ یہ جنم جس کی سانسیں اب ختم ہونے کے قریب ہیں۔ بہت قدیم ہوچکا ہے۔ اب اس میں کچھ باقی نہیں رہا۔ ہاں یہ قبول کرنے میں کیا برائی ہے کہ میں بھی