Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Shah Naseer's Photo'

شاہ نصیر

1756 - 1838 | دلی, انڈیا

اٹھارہویں صدی کے ممتاز ترین شاعروں میں نمایاں

اٹھارہویں صدی کے ممتاز ترین شاعروں میں نمایاں

شاہ نصیر کا تعارف

تخلص : 'نصیر'

اصلی نام : محمد نصیر الدین

پیدائش :دلی

وفات : 23 Nov 1838

رشتہ داروں : میر تسکینؔ دہلوی (شاگرد)

محمد نصیرالدین، المعروف میاں کلو، جو عام طور پر شاہ نصیر کے نام سے مشہور ہیں، اپنے عہد کے ممتاز صوفی بزرگ تھے۔ ان کے والد بھی ایک بزرگِ دین تھے اور اپنے معاشرے میں نہایت احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔ شاہ نصیر نے باقاعدہ اعلیٰ تعلیم حاصل نہیں کی، غالباً اس کی وجہ علمی تعلیم میں ان کی کم دل چسپی تھی۔ 1768ء میں وہ اپنے والد کے بعد ان کی درگاہ کے سجادہ نشین ہوئے۔

شاہ نصیر کو کم عمری ہی سے شاعری کا شوق تھا۔ انہوں نے شاہ محمد مائل سے اصلاح لی، جو قائمؔ چاندپوری کے شاگرد تھے، اور خواجہ میر دردؔ سے بھی غیر رسمی طور پر وابستگی رہی۔ شاہ نصیر نہایت باصلاحیت شاعر تھے اور دہلی کی شعری زبان و محاورے پر انہیں غیر معمولی عبور حاصل تھا۔ روایت ہے کہ وہ مشاعروں میں اپنے ہم عصروں کو فی البدیہہ شعر کہنے کا چیلنج دیتے اور اس فن میں اپنی برتری کا دعویٰ کرتے تھے۔ بعد کے برسوں میں شاہ نصیر ایک مقبول شاعر کی حیثیت سے شہرت حاصل کر گئے اور شاہی خاندان کے افراد سمیت دیگر اہلِ ذوق کے استاد و رہنما مقرر ہوئے۔ انہوں نے مختلف شہروں، خصوصاً میرٹھ اور لکھنؤ کے سفر کیے، جہاں ان کی ملاقات جرأتؔ، مصحفیؔ، آتشؔ اور ناسخؔ جیسے نامور شعرا سے ہوئی۔

شاہ نصیر کو فنِ شاعری پر کامل دسترس حاصل تھی۔ پیچیدہ بحور اور دشوار ردیفوں میں ان کی شاعری ان کی بے مثال فنی مہارت کی روشن دلیل ہے۔ انہیں اپنے زمانے کا رجحان ساز شاعر بھی کہا جاتا ہے۔

موضوعات

Recitation

بولیے