شہناز رحمن کے افسانے
باگ ڈور
ہر بار کی طرح انعام اللہ منزل کے گلیاروں میں ا س بار سیاسی گیتوں کی صدائیں گونجنی شروع ہو گئیں، تمام رشتہ دارادھر ادھر سے آکر جمع ہو گئے۔ ’’قرعہ فال کس سیاسی جماعت کے نام نکلےگا یہ تومجھے پتہ نہیں بہر حال یہ طے ہے کہ رائے دہندگان نے اپنے حق کا مناسب
نیرنگ جنوں
حسب معمول وہ دونوں لائبریری میں الگ الگ سیٹوں پر بیٹھے کتابوں سے انصاف کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے تھے مگر کتابوں کے اوراق ان کی نظر پریشاں کو متوجہ کرنے میں ناکام رہے ‘‘کھوسٹ بڈھا نہ جانے کیسی کتاب لکھ کے مرگیا ایک بھی کام کی چیز نہیں مل رہی اور ابھی
ستیہ وان
ممی! میں نے نیٹ پہ پورا ایریا دیکھ لیا ہے ۔ اور آپ کے بتانے کے مطابق ٹھیک اسی لوکیشن پر ایک محلہ بھی ہے جس کا نام علی پور ہے ۔آپ پاپا سے کہہ دیجیے اس سال کی چھٹی میں ضرور انڈیا لے کر چلیں ۔ لیکن آپ کے پاپا نے تو ساؤتھ افریقہ جانے کا پلان کیا ہے اریطہ
خونچکاں
خواب جل کر راکھ ہو گئے، چشم تمنا بجھ گئی، سرخ رنگ حنا پیلا پڑ گیا، بارش کی بوندیں ذروں سے ٹکراکر شور مچار رہی ہیں، شہر دل ویران ہو گیا۔۔۔ ’’دلہن کی مہندی بڑی رنگ لائی ہے۔ پتی دیو بڑا پیار کریں گے‘‘ ریما کی بچی اپنا منھ بند رکھ ۔ لڑکیاں تو گھر کی
انمول
رہبر کے بار بار اصرار کر نے پر آج انمول کی ادھوری زندگی کے متعلق لکھنے بیٹھ ہی گئی!! حالانکہ انمول میری بہت اچھی دوست ہے لیکن میں بہت جلد باتیں بھول جاتی ہوں، اس لیے اس کہانی کو مکمل کرنے میں مجھے رہبر کی رہنمائی حاصل رہی ہے۔ اس بنیاد پر اگر اصل راوی
ذکیہ تاب زریںؔ
مارچ کی ۱۵؍ تاریخ تھی۔ یونیوسٹی گیسٹ ہاؤس فل ہو چکا تھا۔ فنون لطیفہ پر سہ روزہ پروگرام ہونے والا تھا جس میں ملک وبیرون ملک سے اعلی درجہ کے نقاش وبت تراش، شاعر وادیب شرکت کرنے والے تھے، مہمان خصوصی کی آمد کا انتظار تھا۔ جس کے اہتمام میں پورے کیمپس کو
عجیب سکھ
جس کلی کو چمن کی زینت کے لئے بنایا گیا وہ دھوپ میں جھلس رہی ہے۔ سرمئی آنکھوں کی شراب، چمپئی رخساروں کا رس سورج کی آتشی کرنیں پی رہی ہیں۔ جن ہاتھوں کو مہندی کے سرخ رنگ سے مزین کرنے کے واسطے بنایا گیا تھا وہ مفلسی کا با ر اٹھانے پر مجبور ہیں۔ مانو قدرت
راج محل
وقت کی گردش پوری ہو چکی!!! اوم: بھور، بھوا سھا، تت سوترور’ینِیَم’، بھر گو دوسدھیمھی دھیو یونہہ پر چو دیا۔۔۔ ابھی منتر مکمل بھی نہیں ہوا تھا کہ للت کمار نے کہا! مہارانی کی طرف سے بلاو ا آیا ہے۔ انہوں نے ترنت راج محل پہنچنے کے لیے کہا ہے۔ پرارڑنی