شہروز خاور کا تعارف
ڈاکٹر شہروز خاور کا تعلق علمی و ادبی شہر مالیگاؤں سے ہے ۔ شہروز کو لفظ و بیان کی دولت ، شعر و سخن کی ثروت اور فکر و فن کی وسعت اپنے اجداد سے ورثے میں ملی ہے اور وہ اس ورثے کی صرف حفاظت ہی نہیں کررہے ہیں بلکہ ترسیل و ابلاغ میں بھی بے طرح کامیاب دکھائی دے رہے ہیں ۔ شہروز خاور کی شعری کائنات کی رنگارنگی میں روایت ، کلاسیکیت اور مختلف ادبی تحریکوں کے شعری در و بست سے یکسر انحراف بھی نظر نہیں آتا اور نہ ہی کورانہ تقلید دکھائی دیتی ہے ۔ اہم بات یہ ہے کہ شہروز کی زنبیلِ فن میں نثر و نظم دونوں کے جواہر پارے جگمگا رہے ہیں ۔ علاوہ ازیں افسانوی ادب پر بھی آپ کی نظر ہے ۔ اگر اس میدان میں بھی فعال رہے تو اردو افسانوں کے ایک بہترین ناقد کی حیثیت سے بھی شناخت بنا سکتے ہیں ۔ جہاں تک نظم کی بات ہے تو یہ ان کے لیے اپنے اجداد سے ملا ہوا وہ ورثہ ہے جس میں وہ اپنے قافلے والوں سے کچھ منفرد چلتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔ انھوں نے نظموں میں اپنی قوت متخیلہ سے نت نئے معانی و مفاہیم کو اجالتے ہوئے بہترین لفظیات کا نگار خانہ سجانے کی بھرپور کوشش کی ہے ۔ فکر و فن اور زبان و بیان کے لحاظ سے شہروز کی غزلیں ان کی وسعتِ نظری اور فکری و فنی گہرائی کو آشکار کرتی ہیں ۔
"غبار اپنا" کے نام سے آپ کا شعری مجموعہ اور "تبصیر فسانہ" کے عنوان سے قریب سو افسانوں پر کیے گئے تبصروں کا مجموعہ زیر ترتیب ہے ۔