Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Shams Iftikhari's Photo'

شمس افتخاری

1969 - 2018 | ہاوڑہ, انڈیا

ہاؤڑا، مغربی بنگال سے تعلق رکھنے والے شاعر، ادیب، معلم اور افسانہ نگار

ہاؤڑا، مغربی بنگال سے تعلق رکھنے والے شاعر، ادیب، معلم اور افسانہ نگار

شمس افتخاری کا تعارف

تخلص : 'شمس'

اصلی نام : شمس الزماں انصاری

پیدائش : 04 Aug 1969 | ہاوڑہ, مغربی بنگال

وفات : 06 Jun 2018 | ہاوڑہ, مغربی بنگال

شمس افتخاری کا اصل نام محمد شمس الزماں انصاری ہے لیکن جہانِ ادب میں وہ شمس افتخاری کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ ان کا تخلص شمس ہے۔ شمس افتخاری کی ولادت 04 اگست 1969ء کو پیل خانہ، ہاؤڑا، مغربی بنگال میں ہوئی تھی۔ ان کےوالد کا نام محمد قاسم ہے۔ بعد میں ان کی فیملی پی ایم بستی تھرڈ بائی لین، شیب پور،ہاؤڑا منتقل ہوگئی۔ انھوں نے ایم اے تک تعلیم حاصل کی تھی۔ ان کا پیشہ درس و تدریس تھا۔ وہ ایک پرائمری اسکول میں مدرس تھے۔ انھوں نے  اپنا تخلیقی عمل 1989ء سے شروع کیا تھا۔ ادبی اور سماجی سطح پر بہت فعال تھے۔ حلقۂ سخن وراں، ہاؤڑا اور بزمِِ شہرِ نشاط، کولکاتا کے معتمدِ اعلیٰ بھی تھے۔ ان کی تین مرتب کردہ کتابیں ہیں۔ (1) سرمایۂ سخن وراں (حلقۂ سخنوراں کے گیارہ شاعروں کی15۔15 غزلوں پر مشتمل کتاب، (2)ڈاکٹر الف انصاری:حیات و خدمات   (3)تجلیاتِ حسنِ ازل (حلقۂ سخن وراں کے 05 شاعروں کے دینی کلام (حمد و نعت) پر مشتمل کتاب جب کہ چوتھی کتاب انتخاباتِ مقالاتِ شمس (مضامین کا مجموعہ) ہے جس کے مؤلف الف انصاری ہیں۔

نئی نسل کے شاعر و ادیب مدثر حسن، شمس افتخاری کی تخلیقی کاوش پر اس طرح اظہارِ خیال کرتے ہیں۔
”ہر شاعری کی اساس الگ ہوتی ہے اور اگر یہ نہ ہو تو کوئی شاعر اپنی پہچان الگ قائم نہیں کرسکتا۔ ہمیں یہ کہنے میں ذرا بھی تامل نہیں کہ بنگال میں ایسےشاعروں کی تعداد کم ہے جو اس کوشش میں کامیاب ہیں اور انھیں کی شاعری زندگی کی علامت ہے۔ ان شاعروں میں ایک معتبر نام شمس افتخاری کا ہے۔ انھوں نے اپنے تجربات وافکار کو احساسات و جذبات سے ہم آمیز کر کے انھیں استعاروں کا روپ اور تغزل کا لہجہ دیا۔
آپ نے اردو کی مروجہ بیشتر اضافِ سخن میں کامیاب طبع آزمائی کی۔ حمدو نعت، مناجات و مناقب، قصیدہ، غزل، نظم، رباعی، قطعہ وغیرہ اضاف میں آپ کے کلام بہ کثرت موجود ہیں۔ آپ انتہائی خوش اخلاق، ملنسار، مہمان نواز، منکسرالمزاج اور باکمال شاعر تھے۔ یہی عاجزی اور یہی سادگی آپ کی شاعری میں جابجا ملتی ہے۔“

Recitation

بولیے