Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Shaukat Azeem's Photo'

شوکت عظیم

1957 - 2011 | ہوگلی, انڈیا

اردو شاعر، افسانہ نگار اور مترجم، بنگلہ ادب کے اردو تراجم کے حوالے سے معروف

اردو شاعر، افسانہ نگار اور مترجم، بنگلہ ادب کے اردو تراجم کے حوالے سے معروف

شوکت عظیم کا تعارف

تخلص : 'شوکت'

اصلی نام : شوکت علی

پیدائش : 17 Sep 1957 | ہوگلی, مغربی بنگال

وفات : 13 Oct 2011 | ہوگلی, مغربی بنگال

شوکت عظیم کا اصل نام شوکت علی، قلمی نام شوکت عظیم اور تخلص شوکت ہے۔ ان کے والد کا نام احمد علی ہے اور ان کا آبائی وطن بلیا، اترپردیش ہے۔ تعلیم اسکول فائنل تک اور پیشہ ملازمت تھا۔ انھوں نے تخلیقی کاوش کا آغاز 1978ء سے کیا۔ انھیں حرمت الا اکرام،علقمہ شبلی اور شہود عالم آفاقی جیسے استاد شعراء سے شرف تلمذ حاصل رہا۔ شوکت عظیم کی تصنیفات اس طرح ہیں۔ ”انسانیت زندہ ہے“ (بنگلہ افسانوں کا اردو ترجمہ)، ”ہمارے ودیا ساگر“ (بنگلہ سے اردو)، کرسی نامہ (بنگلہ افسانوں کا اردو ترجمہ)

شوکت عظیم کی تخلیقی کاوش پر معروف شاعر اور ادیب رونق نعیم اس طرح اپنا تاثر پیش کرتے ہیں۔
”وہ ایک ذہین اور فعال قلمکار ہیں ۔ اسلوب کا مزاج آشنا اور لفظوں کی نفسیات سے واقف ہیں۔ فنکارانہ بصیرت سے کام لیتے ہیں۔ پہلے لفظ کو چھان پھٹک کر دیکھتے ہیں پھر اس کا استعمال کرتے ہیں۔‘‘

معروف شاعر، ادیب اور مدیر ابوذر ہاشمی اس طرح رقم طراز ہیں۔
’’۱۹۸۰ء کے آس پاس کلکتہ اور مضافات کے جو نام ابھر کر سامنے آئے ہیں ان میں شوکت عظیم کا نام اہمیت کا حامل ہے۔یوں تو شوکت کی شعری و افسانوی نگارشات مختلف رسائل و اخبارات میں شائع ہوتی رہی ہیں لیکن جس نے شوکت عظیم کو اہمیت بخشی، وہ بنگلہ زبان کی نظموں اور افسانوں کے تراجم ہیں۔‘‘

نسیم اشک کا شوکت عظیم سے متعلق اظہارِ خیال ملاحظہ کیجیے۔
”شوکت عظیم کی شاعری میں لفظوں کی ہنر کاری سے زیادہ احساس کی ترجمانی ملتی ہے۔ وہ پیغام دینے کے حق میں نہیں ہے بلکہ اپنی شاعری کو ایک آئینے کی طرح پیش کرتے ہیں اور ان تصاویر کو زمانے کے سامنے رکھتے ہیں جیسا کہ ان کی آنکھوں نے دیکھا ہے۔“

شوکت عظیم کا انتقال 13 اکتوبر 2011ء کو چاپدانی،ہگلی، مغربی بنگال میں ہوا۔

موضوعات

Recitation

بولیے