Siraj Alam Zakhmi's Photo'

سراجؔ عالم زخمی

1984 | سعودیہ عربیہ

سراجؔ عالم زخمی کے اشعار

582
Favorite

باعتبار

کوئی شکوہ کوئی گلہ دے دے

مجھ کو جینے کا حوصلہ دے دے

بے وفائی کا مجھے الزام دیتا تھا وہ شخص

میں نے بھی اتنا کیا بس اس کو سچا کر دیا

خود کو بچاؤں جسم سنبھالوں کہ روح کو

بکھرا ہوا ہے درد یہاں سے وہاں تلک

اتنا نہ دور جاؤ کہ جینا محال ہو

یوں بھی نہ پاس آؤ کہ دم ہی نکل پڑے

وہ اتنی شدتوں سے سوچتا ہے

کہ جیسے میں بھی کوئی مسئلہ ہوں

دل میں طوفان نہیں آنکھ میں سیلاب نہیں

ایسے جینے سے تو بہتر تھا کہ مر ہی جاتے

کیا ہمسری کی ہم سے تمنا کرے کوئی

ہم خود بھی اپنے قد کے برابر نہ ہو سکے

توڑے بغیر سنگ تراشے نہ جائیں گے

وہ دل ہی کیا جو ٹوٹ کے پتھر نہ ہو سکے

بکھرتے ٹوٹتے لمحوں میں ایسا لگتا ہے

مرا گمان ہے تو اور ترا قیاس ہوں میں

دل میں رہ رہ کے شور اٹھتا ہے

کوئی رہتا ہے اس مکان میں کیا

صدائے دل کو کہیں باریاب ہونا تھا

مرے سوال کا کچھ تو جواب ہونا تھا

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI

Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

GET YOUR FREE PASS
بولیے