صوفیہ کاشف کے افسانے
انتہا
بل کھاتی ندیوں کے ٹھنڈے تازہ پانی کی بہتی لہروں میں سے چھینٹے اڑاتے مجھے جس کے سنگ گزرنا تھا، کوئی تھا ایسا جس کے ساتھ میں مجھے پھولوں کی طرح کھلنا اور کلیوں کی طرح چٹکنا تھا، ستاروں کی صورت چمکنا تھا۔ بلند پہاڑوں کی خایک رنگ خاموشیوں میں، ہواؤں کے سنگ