سید حامد علی کا تعارف
پیدائش : 01 May 1923 | شاہ جہاں پور, اتر پردیش
وفات : 03 Mar 1993
شناخت: مفسرِ قرآن، مبلغِ اسلام، مصنف اور تحریکِ اسلامی کے ممتاز رہنما
مولانا سید حامد علی یکم مئی 1923ء کو قصبہ میران پور کٹرہ، ضلع شاہ جہاں پور (یوپی) میں پیدا ہوئے۔ آپ نے ابتدائی تعلیم کے بعد بریلی کے مدارس (اشاعت العلوم اور مصباح العلوم) سے فارسی اور عربی کی اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ آپ نے الہ آباد بورڈ سے منشی، کامل، مولوی، فاضلِ دینیات اور فاضلِ ادب کے امتحانات امتیازی نمبرات سے پاس کیے اور انگریزی زبان میں بھی مہارت حاصل کی۔
آپ آغازِ شباب ہی میں مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی تحریروں سے متاثر ہوئے اور 1942ء میں تحریکِ اسلامی سے وابستہ ہو گئے۔ 1948ء میں جماعت اسلامی ہند کی تشکیل کے بعد آپ اس کی مرکزی مجلسِ شوریٰ کے رکن منتخب ہوئے۔ آپ نے جماعت میں 'شعبہ نشر و اشاعت' اور 'شعبہ دعوت غیر مسلمین' جیسی اہم ذمہ داریاں نہایت تندہی سے نبھائیں۔
مولانا کو تصنیف و تالیف کا خاص ملکہ حاصل تھا۔ آپ نے مختلف دینی و دعوتی موضوعات پر تقریباً 100 کتابچے اور کتب تحریر کیں، جو 'مرکزی مکتبہ اسلامی' اور آپ کے اپنے ادارے 'ادارہ شہادتِ حق' سے شائع ہوئیں۔
اہم تصانیف: 'قرآنی اصطلاحات اور علمائے سلف و خلف'، 'اسلام آپ سے کیا چاہتا ہے؟'، 'نماز اور اس کے اذکار'۔
ردِّ الحاد: آپ نے ملحدین کے اعتراضات کے عقلی اور علمی جوابات دیے، جن میں 'خدا ہے'، 'خدا کا انکار کیوں؟' اور 'کیا خدا کی ضرورت نہیں؟' جیسی کتب نمایاں ہیں۔
تفسیر فی ظلال القرآن: آپ نے علامہ سید قطب شہید کی مشہور تفسیر کا اردو ترجمہ شروع کیا، جو آپ کی وفات کے بعد مولانا مسیح الزماں فلاحی ندوی نے مکمل کیا (اب یہ 18 جلدوں میں دستیاب ہے)۔
آپ نے غیر مسلموں کی نفسیات کو مدنظر رکھتے ہوئے 'تحریکِ اسلامی اور برادرانِ وطن' جیسی کتب لکھیں اور ملک گیر دوروں کے ذریعے بے شمار لوگوں تک حق کا پیغام پہنچایا۔
وفات: آپ کا انتقال 3 مارچ 1993ء (بروز بدھ) کو ہوا۔