تبسم ضیا کا تعارف
تبسم ضیا، تخلص محسم، 1984 میں راول پنڈی میں پیدا ہوئے۔ وہ اردو کے معاصر افسانہ نگار، شاعر اور کالم نگار ہیں۔ نمل (نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز)، اسلام آباد سے اردو ادب میں ایم اے کیا اور پیشے کے اعتبار سے ٹرانسپورٹ کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ نظم، افسانہ اور کالم ان کی بنیادی تخلیقی اصناف ہیں۔ ان کا پہلا شعری مجموعہ "سرخ جنموں کے زرد سائے" 2017 میں مثال پبلیکیشنز فیصل آباد سے شائع ہوا، جب کہ کالم نگاری کا سلسلہ روزنامہ اوصاف میں 2013 سے 2014 تک جاری رہا۔ تبسم ضیاء کی شاعری میں جدید اسلوب، بصری امیجری، اور بے باک موضوعات کا امتزاج نمایاں ہے، بالخصوص جنسیت جیسے موضوعات پر ان کی شاعری کا اظہار جرات مندانہ مگر شائستہ انداز میں سامنے آتا ہے۔ ان کی نظموں میں داخلی آہنگ، فکری گہرائی اور اظہار کی سادگی ایسی خصوصیات ہیں جو انہیں ہم عصروں میں ممتاز بناتی ہیں۔ ڈاکٹر ستیہ پال آنند نے ان کے اسلوب کو "آتش زیرِ پا" قرار دیتے ہوئے اسے قاری کے جذبہ و وجدان کو جھنجھوڑ دینے والا تجربہ کہا ہے۔ تبسم ضیاء آج کے جدید اردو ادب میں ایک حساس، متحرک اور تخلیقی فکر کے نمائندہ کے طور پر پہچانے جاتے ہیں۔