Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Tanveer Samani's Photo'

تنویر سامانی

تنویر سامانی کے اشعار

کیوں نہ تنویرؔ پھر اظہار کی جرأت کیجے

خامشی بھی تو یہاں باعث رسوائی ہے

گھروں میں قید ہیں بستی کے شرفا

سڑک پر ہیں فسادی اور غنڈے

اپنے کاندھے پہ لیے پھرتی ہے احساس کا بوجھ

زندگی کیا کسی مقتل کی تمنائی ہے

فرضی قصوں جھوٹی باتوں سے اکثر

سچائی کے قد کو ناپا کرتا ہوں

اپنی صورت بھی کب اپنی لگتی ہے

آئینوں میں خود کو دیکھا کرتا ہوں

فکر کی آنچ میں پگھلے تو یہ معلوم ہوا

کتنے پردوں میں چھپی ذات کی سچائی ہے

Recitation

بولیے